سانحہ اے پی ایس کی دردناک یادوں سے نبرد آزما طالب علم احمد نواز پاکستانی نوجوانوں کے لیے مثال بن گئے انھوں نے برطانیہ میں 2019 کا لیگیسی ایوارڈ حاصل کر کے ایک بار پھر پاکستانی قوم کا سرفخر سے بلند کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق لندن میں اے پی ایس کے زخمی طالب علم احمد نواز نے 2019کا لیگیسی ایوارڈ حاصل کیا ہے احمد نواز کو کینگسٹن پیلیس میں مدعوکیا گیا، جہاں انہوں نے شہزادہ ولیم سےبھی ملاقات کی۔
یاد رہے رواں سال جولائی میں احمد نواز کو لندن میں ڈیانا ایوارڈ سےنوازا گیا تھا، احمد نواز کو نوجوانوں کی تعلیم کے حوالے سے ان کی خدمات پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔
اس سے قبل برطانوی وزیراعظم کی جانب سے احمد نواز کے لئے پوائنٹ آف لائٹ ایوارڈ کا اعلان کیا تھا ، برطانوی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ خط میں انتہاپسندی کے خلاف احمد نواز کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا اس مہم میں احمدنواز نےگرانقدرکام کیا۔
علاوہ ازیں احمد نواز کو برطانیہ اور یورپ کا ینگ پرسن آف دی ایئر، ایشیا انسپائریشن ایوارڈ اور درجنوں دیگر ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

واضح رہے 16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، دہشت گردوں نے علم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی اور دردناک سانحے اور دہشت گردی کے سفاک حملے میں 147 افراد شہید ہوگئے تھے، جس میں 132 بچے بھی شامل تھے۔
سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے طالب علم احمد نواز کو حکومت نے سرکاری خرچ پر 2015 میں علاج کے لیے برطانیہ بھیجا تھا، جہاں اُن کا علاج کوئین الزبتھ اسپتال میں ہوا، برطانوی ڈاکٹرز نے احمد نواز کا علاج کیا جس کے بعد وہ صحت مند زندگی کی طرف لوٹے اور پھر لندن میں ہی تعلیم کا آغاز کیا۔
