لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت کئی شہروں میں طلباو طالبات کے مظاہرے ہوئے
ریلیوں میں انقلاب انقلاب کے نعرے، کراچی میں مزدور رہنما بھی احتجاج میں شریک ہوئے
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ نماز جمعہ کے بعدکراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت کئی شہروں میں طالب علم اور نوجوان اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے اہم شاہراہوں پر جمع ہو گئے اور مظاہرے کئے۔کراچی میں طلبہ یکجہتی مارچ میں زیادہ تر سابق طلبہ یونین رہنما، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن اور مزدور رہنما شامل ہوئے جبکہ جامعات سے طلبہ کی شرکت محدود رہی۔لاہور میں ناصر باغ سے شروع ہونے والے اس مارچ میں طلبہ کی بڑی تعداد نے پنجاب اسمبلی کے باہر پہنچ کر ‘انقلاب انقلاب’ کے نعرے لگائے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینکڑوں طلبا نے پریس کلب سے ڈی چوک تک مارچ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے باہر مظاہرے میں مختلف طلبا تنظیموں کے علاوہ مزدور کسان پارٹی کے رہنمائوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ طلبا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔کوئٹہ میں بھی بلوچستان یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات میں طلبہ تنظیموں پرپابندی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔دریں اثنا مارچ کے شرکا کی حمایت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹوئٹ کیا۔اپنے ٹوئٹ میں بلاول بھٹو زرداری نے لکھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ طلبہ یونین کی حمایت کی ہے ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کے اقدام کو جان بوجھ کر معاشرے کو ناکارہ بنانے کے لیے کالعدم کیا گیا۔مزید براں وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے تھاکہ طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کرتا ہوں، اگرطلبہ یونینز پرپابندی لگادیں گے تو سیاستدانوں کی نئی پود نہیں ملے گی، طلبہ یونینزپرپابندی جمہوریت کے منافی ہے جب کہ طلبہ سیاست کوتشدد سے پاک بنانے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

