
دی ہیگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہالینڈ کے شہر ہیگ میں چاقو حملے میں 3بچے زخمی ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چاقو زنی کا واقعہ شہر کی ایک بڑی مارکیٹ میں پیش آیا،جس کے بعد شہریوں میں افراتفری مچ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں حملہ آور ایک سفید فام ہے، جس کی عمر 45سے 50برس کے درمیان تھی اور وہ سرمئی رنگ کی جیکٹ پہنچے ہوئے تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تینوں بچوں کو اسپتال میں علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پولیس نے جائے وقوع کے اردگرد سیکورٹی انتہائی سخت کررکھی ہے اور مجرم کو تلاش کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانس نے لندن میں جمعہ کے روز ہونے والے چاقو حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ حملہ آور سزا یافتہ مجرم تھا اور اس کی قبل از وقت رہائی غلطی تھی۔ لندن پولیس کے مطابق 28 سالہ حملہ آور عثمان خان کی پیدایش لندن میں ہوئی اور وہ برطانوی شہری تھا۔ اسے برطانیہ میں 2012 ء میں دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔ گزشتہ برس اسے اس شرط پر رہائی ملی کہ وہ ایک برقی آلہ پہنے رکھے گا تاکہ اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ برطانوی پولیس جائزہ لے رہی ہے کہ مجرم جیل جانے کے بعد کیسے رہا ہوا اور مبینہ تخریب کاری کی منصوبہ بندی کیسے کی۔ پولیس کے مطابق حملے کے وقت ملزم نے اپنے جسم پر دھماکا خیز مواد کی جعلی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو کا کہنا ہے کہ ملزم کی اسٹیفورڈ شائر میں واقع قیام گاہ پر مزید شواہد کے حصول کے لیے چھاپا مار کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ لندن برج پر ہونے والے حملے میں 2افراد ہلاک اور 3زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھی، جب کہ زخمیوں میں 2 خواتین اور ایک مرد اسپتال میں زیر علاج ہے۔
