واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورئہ افغانستان کو خفیہ رکھنے کے لیے کئی ہفتے قبل تیاری کا انکشاف ہوا ہے۔ جمعرات کے روز ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں صحافیوں کی کانفرنس میں فوجیوں سے خطاب بھی کرناتھا، تاہم انہیں بھنک بھی نہ پڑی کہ صدر افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کا دورئہ خفیہ اور غیر علانیہ تھا۔ بگرام ائر بیس پر انہوں نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور ان سے خطاب بھی کیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کا یہ افغانستان کا پہلا دورہ تھا، جبکہ اپنے 3سالہ دور صدارت میں انہوں نے دوسری بار کسی جنگ زدہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ ٹرمپ کے 33گھنٹوں پر محیط دورے کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کی تیاری کئی ہفتوں سے ہو رہی تھی اور انتظامیہ ان کی واپسی تک دورے کو خفیہ رکھنے میں کامیاب رہی۔ وائٹ میں انتہائی خاص اہل کاروں ہی کو صدر کے دورے سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔ منگل کے روز فلوریڈا کے دورے کے دوران صحافی جمعرات کے روز کانفرنس کے منتظر تھے، تاہم انہیں علم بھی نہ ہواکہ ٹرمپ اب فلوریڈا میں موجود نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان خطرناک علاقہ ہے اور ٹرمپ فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں جانا چاہتے تھے۔ دورے میں شریک رپورٹروں کے ایک گروپ کو خفیہ طور پر چند گھنٹے قبل طلب کرکے صرف اتنا بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ خفیہ طور پر ایک نامعلوم مقام کا دورہ کریں گے۔ روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس کے عملے سمیت تمام افراد سے موبائل فون سمیت پیغامات بھیجنے والے تمام آلات لے لیے گئے۔ 13گھنٹے کی پرواز کے دوران طیارے میں مکمل اندھیرا رکھا گیا۔
