18-2017 کے ڈیفالٹرز کے 9.5 بلین روپے ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین سے وصول کرنے سے فوری روکا جائے
کے الیکٹرک کیوں بجلی کے نئے پلانٹس لگانے میں عجلت کر رہا ہے؟ پی ایس پی کو قانونی کارروائی کا حق ہے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے چیئرمین نیپرا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کو مالی سال 2017-18ء کے ڈیفالٹرز کے 9.5 ملین روپے ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین سے وصول کرنے سے فوری طور پر روکا جائے۔ اپنے خط میں کے ای کے پانچ سالہ اسٹے آرڈر پر مصطفی کمال نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک اپنے حد سے زائد منافع کا حصہ صارفین کو واپس نہیں کرنا چاہتا، مصطفی کمال نے مطالبہ کیا کہ نیپرا فوری طور پر اسٹے آرڈر کو کالعدم قرار دے تاکہ وہ مستقبل میں بجلی کے بلوں کے مقابلے میں یہ رقم صارفین کو ٹیرف سے متعلق ریلیف میں ادا کرے، اپنے خط میں مصطفی کمال نے کے الیکٹرک کے سابق چیئرمین اکرام سہگل کے مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سے سوال کیا کہ کے الیکٹرک کیوں بجلی کے نئے پلانٹس لگانے میں عجلت کر رہا ہے؟ اور یہ پلانٹس (جوکہ درآمدی کوئلے سے بجلی تیار کرے گا نسبتاً انتہائی سستی بجلی قومی گرڈ میں دستیاب ہے) صارفین کے ان پیسوں پر بنے گا جو کے الیکٹرک نے واپس کرنے ہیں، پی ایس پی کو قانونی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔

