محکمہ صحت اور لیاری میڈیکل کالج کی جنگ کو سمجھے بغیر چیف سیکریٹری نے ڈاکٹر انور ہالاری کو محکمہ صحت میںرپورٹ کرنے کا حکم دے دیا
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ کی جانب سے لیاری اسپتال کے انتظامی سربراہ کو براہ راست ہٹانے سے اسپتال کا انتظام درہم برہم ، وزارت صحت اور محکمہ صحت نئی مشکلات سے دوچار، مافیا کی چال کامیاب، تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت اور لیاری میڈیکل کالج کے مابین جاری قانونی جنگ کو سمجھے بغیر چیف سیکریٹری سندھ نے لیاری اسکول آف نرسنگ کی خلاف قانون گریڈ 17کی نرسنگ انسٹرکٹر شبانہ کے جھوٹے الزام کی بنیاد پر تدریسی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد انور پالاری کو ان کے منصب سے ہٹا کر انہیں محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کا حکم دیدیاجبکہ سیکریٹری صحت سندھ نے شبانہ اور بے بی حوا کا تبادلہ اس لئے کیا تھا کہ یہ دونوں سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس شبانہ پرنسپل کے عہدے پر اور بے بی حوا نرسنگ سپرنٹنڈنٹکے عہدے پر تعینات تھیں جبکہ مذکورہ اسامیاں گریڈ 20اور 19کی ہیں اور مذکورہ دونوں اسٹاف نرسوں کی اصل اسامیاں نرسنگ اسکول میں نرسوں کو تعلیم دینے پر مبنی بتائی جاتی ہیں جبکہ شبانہ نے پرنسپل کی حیثیت سے لیاری کے میل نرسنگ اسکول میں 40سے زائد داخلے کراچی کے جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر بھاری رشوت کے عوض دیئے اور مذکورہ داخلے منسوخ ہونے کی بناء پر کراچی میل نرسوں کی 40سے زائد نشستوں کا قابل تلافی نقصان ہوا۔

