English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے کوالیفائیڈ کوچز کی ضرورت ہے،سابق کرکٹرز

القمر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور ٹی۔20 سیریز ہارنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیریز میں قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی مایوس کن تھی، سری لنکا کے خلاف کھلاڑیوں کو نئے جذبہ کے ساتھ میدان میں اترنا چاہئے، سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں فواد عالم کو قومی ٹیم میں شامل کرنا چاہئے، قومی کھلاڑیوں کی بنیادی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے کوالیفائیڈ کوچز ضرورت ہے، ٹیسٹ میچ نوجوانوں کا نہیں تجربہ کار کھلاڑیوں کا کھیل ہے۔ منگل کو سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹر صادق محمد نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے، انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جس میں صلاحیت کا فقدان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کیلئے پہلے 5 بلے بازوں کو رنز بنانے چاہئیں، جب تک وہ رنز نہیں بنائیں گے تو ٹیسٹ سیریز جیتنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کیلئے فواد عالم کو قومی ٹیم میں شامل کرنا چاہئے کیونکہ وہ تجربہ کار بھی ہیں اور ڈومیسٹک سطح پر بھی انہوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں بائونس پچز ہونی چاہئیں، قومی بولرز کو سکھانے کی ضرورت ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان کی5 ٹیمیں بنانی چاہئیں اور ان ٹیموں کے درمیان ٹورنامنٹس ہونے چاہئیں اور ان میں سے باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم تشکیل دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کی بنیادی صلاحیت درست کرنے کیلئے ظہیر عباس، اقبال قاسم اور صادق محمد کی خدمات لینی چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سری لنکا کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، سری لنکا اور پاکستان کے درمیان 2 ٹیسٹ سیریز کھیلی جائیں گی۔ پہلا ٹیسٹ میچ 11 دسمبر پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم جبکہ دوسر 19 دسمبر سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہو گا۔ راولپنڈی 19 سال بعد انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کرے گا۔ راولپنڈی میں آخری میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان اپریل 2004ء میں کھیلا گیا تھا۔ کراچی میں ٹیسٹ میچ 10 سال بعد کھیلا جائے گا۔ آخری میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فروری 2009ء میں کھیلا گیا تھا۔ ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے کہا کہ آسٹریلیا کے دورہ سے قبل کہا تھا کہ اس دورہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ٹیم میں صلاحیت کا فقدان ہے، اس بولنگ اٹیک کے ساتھ دورہ جیتنے کے چانسز نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میں ٹی۔20 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا تھا، ٹیسٹ میچ تجربہ کار کھلاڑیوں کا کھیل ہے، آسٹریلین کرکٹ ٹیم جب کسی ٹیم پر حاوی ہو جائے تو اس کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے