اہم عہدیدوں پر جعلساز ترقیاں، افسران کی تعیناتی کے باعث ادارے کے امور بری طرح متاثر
رئیس تبسم کو سینئر افسران کو نظرانداز کرکے نوازنے پر سینئر افسران کا شدید تحفظ کا اظہار
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ادارہ ترقیات کراچی میں انتظامی بحران تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔ ادارے کی انتہائی اہم عہدوں پر جعلسازی ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کی تعینات کے باعث ادارے کے امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ، محکمہ ریکوری، محکمہ مالیات اور شعبہ تعلقات عامہ میں متعدد ایسے افسران تعینات ہیں جن کی گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں کی گئی ترقی خود ادارے کے افسران شکوک قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شعبہ تعلقات عامہ میں گزشتہ ماہ سے تعینات کئے جانے والے ڈائریکٹر رئیس تبسم کی گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی جعلسازی کے ذریعے بتائی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی کے لئے ڈی پی سی کا اجلاس ہونا ضروری ہے تاہم رئیس تبسم کی گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی کے لئے نہ ہی ڈی پی سی کا اجلاس کیا گیا اور نہ ہی سندھ حکومت سے منظوری حاصل کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے کی ایک لیبر یونین کے دباؤ پر پہلے مذکورہ افسر کو خلاف ضابطہ گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی دلوائی گئی جبکہ گزشتہ ماہ یونین کے دباؤ پر رئیس تبسم کو گریڈ 18 کے عہدے ڈائریکٹر شعبہ تعلقات عامہ تعینات کردیا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق ڈی جی ناصر عباس کے دور میں من پسند ملازمین کو اثر ورسوخ اور بھاری نذرانوں کے عیوض قواعد کے برخلاف بڑے گریڈز میں ترقیاں دی گئی ہیں جن کی تحقیقات کی صورت میں اہم انکشافات متوقع ہیں دوسری طرف مذکورہ افسر کو سینئر افسران کو نظر انداز کرکے نوازنے پر سینئر افسران شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی کے ڈی اے سے رئیس تبسم کی ترقی کی فوری جانچ پڑتال کرنے کا مطالبہ کیا ہے افسران کا کہنا ہے کہ جب تک رئیس تبسم کی ترقی کی تصدیق نہیں ہوجاتی انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے تاکہ شفاف تحقیقات کی جاسکے۔

