اسلام آباد(نمائندہ جسارت)اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے سابق مرکزی رہنما عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست منظور کر لی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔اس
موقع پر گرفتار ملزمان معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم کو سخت سیکورٹی میں پیش کیا گیا۔ایف آئی اے پراسیکوٹر خواجہ امتیاز نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے برطانوی گواہوں کی فہرست جمع کرائی جس میں مقتول عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ ،برطانوی فنگر پرنٹ ایکسپرٹ، فرانزک ماہرین اورلندن اکیڈمی آف مینجمنٹ سائنسز کے ڈائریکٹرز سمیت دیگر پولیس افسران شامل ہیں۔ایف آئی اے پراسیکوٹر نے گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کی استدعا کرتے ہوئے ایک ماہ کی مہلت بھی طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موقع آنے پر غیر ضروری گواہوں کو ترک کر دیا جائے گا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کی ایف آئی اے کی درخواست منظور کر لی۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کے بیانات برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کی موجودگی میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی ۔
عمران فاروق قتل کیس
