دوحہ/کابل/واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن نے ہفتے کے روز قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ بحال کردیے ہیں ،امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کابل سے دوحہ پہنچ گئے ہیںجہاں 3 ماہ کے تعطل کے بعد افغانستان میں جنگ بندی کی کوششوں پر بات چیت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ ستمبر میں فریقین کے درمیان مذاکرات لگ بھگ طے ہوچکے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک طالبان کے ساتھ بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔بعد میں پاکستان کی میزبانی میں اکتوبر میں افغان طالبان کے ایک اعلیٰ وفد نے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کی اور فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا تبادلہ بھی کیا گیا ۔امریکی حکومت کی خواہش ہے کہ اگلے سال امریکا میں صدارتی الیکشن سے پہلے کوئی معاہدہ طے پائے جائے تاکہ ٹرمپ افغانستان سے وعدے کے مطابق ہزاروں امریکی فوجی نکال سکیں۔پچھلے ہفتے ٹرمپ نے بگرام کے امریکی اڈے پر مختصر غیر اعلانیہ دورے میں کہا تھا کہ طالبان بھی امریکا کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات میں ابتدائی طور پر تشدد میں کمی اور مستقل جنگ بندی کے لیے طالبان کو قائل کرنے پر توجہ دی جائے گی اور زلمے خلیل زاد افغانستان کے اندر فریقین میں مذاکرات کی کوشش بھی کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ ملاقات قطر میں ہوئی جہاں طالبان کا سیاسی دفتر بھی قائم ہے جبکہ اس سے قبل بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر سے مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔زلمے خلیل زاد کی جانب سے افغان طالبان اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کے اچانک دورے کے بعد شروع کیے گئے ہیں جہاں ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بحال ہوں گے۔طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی نمائندہ خصوصی تشدد میں کمی پر زور دے رہے ہیں دوسری جانب امریکی فوج نے اپنی معمول کی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فضائی کارروائی میں 37 طالبان جنگجووں کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی نے جنگجوئوںکے خلاف کارروائی میں دیگر 22 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔طالبان بھی افغانستان بھر میں قائم فوجی چیک پوسٹوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں اور رپورٹس کے مطابق افغانستان کے آدھے حصے پر ان کا قبضہ ہے۔
