بحریہ ٹائون کیخلاف ان کی درخواست میں وفاق کو تو فریق ہی نہیں بنایا گیا تو وہ کسی حیثیت سے اس رقم کا دعویدار ہے؟ درخواست گزار
ملک ریاض کے برطانوی حکام سے تصیفے کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے حوالے کی جانے والی رقم وفاق کے بجائے شہر قائد کی بہبود کیلئے استعمال کی جائے، محمود نقوی
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) بحریہ ٹائون کراچی کے مقدمے کے مرکزی درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ بحریہ گروپ آف کمپنیز کے بانی ملک ریاض کے برطانوی حکام سے تصفیے کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے حوالے کی جانے والی رقم وفاق کے بجائے کراچی کو دی جائے جو شہر قائد کی بہبود کے لیے استعمال کی جائے۔ سید محمود اختر نقوی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی متفرق درخواست وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے اس تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پائونڈ کی رقم پاکستان کو مل چکی ہے۔ واضح رہے کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹائون کراچی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو جائز قرار دیے جانے کے بدلے 460 ارب روپے دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، اس میں سے 70 ارب روپے پہلے ہی سپریم کورٹ میں جمع کرائے جاچکے ہیں جبکہ برطانیہ سے آنے والے 38 ارب روپے کو بھی ملک ریاض نے جرمانے کی مد میں ادائیگی قرار دیا تھا۔ درخواست گزار محمود نقوی نے مزید بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق برطانیہ سے آنے والے 14 کروڑ پائونڈ سے پہلے ہی اس اکائونٹ میں 70 ارب روپے کی رقم جمع ہو چکی تھی۔ بحریہ ٹائون کے خلاف ان کی درخواست میں وفاق کو تو فریق ہی نہیں بنایا گیا تو وہ کس حیثیت سے اس رقم کا دعوے دار ہے؟ ان کی درخواست میں سندھ ریونیو بورڈ کے سینئر رکن ملک اسرار احمد اور بحریہ ٹائون کے مالک کو فریق بنایا گیا تھا۔ بحریہ ٹائون کی وکلا ٹیم سے جب اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے برطانیہ سے آنے والے 14 کروڑ پائونڈ کے سپریم کورٹ کے بینک اکائونٹ میں جمع ہونے سے متعلق کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کیا۔

