نئی دہلی /اسلام آباد/واشنگٹن /سرینگر(خبر ایجنسیاں)مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر مبنی شہریت کا متنازع بل منظور کیے جانے کے بعد بھارت میں اور بیرون ملک شدید احتجاج جاری ہے۔بھارتی پارلیمنٹ لوک سبھا میں تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا متنازع بل گزشتہ روزکثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا جس کے تحت مسلمانوں کے سوا 6 مذاہب کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حزب اختلاف کے شدید احتجاج کے باوجود متنازع بل پیش کیا جس کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ووٹ ڈالے گئے۔ بل کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلا دیش کی 6اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ) سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھارتی شہریت دی جائے گی لیکن اس میں مسلمان شامل نہیں ہوں گے۔یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے کسی دوسرے ملک کے شہری کو مذہبی بنیاد پر شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔آئینی ماہرین اسی بنیاد پر اس بل کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس بل میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس بل کو آرٹیکل 5، 10، 14 اور 15 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان مسلمان ممالک ہیں جہاں وہ رہ سکتے ہیں، اس لیے اس بل کا فائدہ انہیں نہیں ملے گا۔ کانگریس نے بل پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی اور بی جے پی نے بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کردیا ہے۔حیدر آباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی کاپی پھاڑتے ہوئے کہ بل میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے سے انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر یہ بتایا جائے کہ مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے اور بی جے پی کا اس بل کا مقصد بنگالی ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔ رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے کہا کہ پارلیمنٹ کو ایسے بل پر بحث کا حق نہیں ہے، یہ بھارت کی جمہوری اقداراور آئین کی خلاف ورزی ہے، کیا ہماری قوم کی تعمیر مذہب کی بنیاد پر ہوگی۔ کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس بل کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔بل کی منظوری کیخلاف بھارت میں شہریوں کی جانب سے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔آسام، ارونا چل پردیش، میزورام، ناگالینڈ، تری پورا اور میگھالیہ سمیت مختلف ریاستوں میں ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے ٹائر نذر آتش کیے اور سڑکیں بلاک کردیں۔آسام میں طلبہ کی جماعتوں کے ایک اتحاد نارتھ ایسٹرن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ریاست کے تقریبا تمام تعلیمی اداروں میں مظاہرہ کیا ہے۔بی بی سی کے مطابق آسام میں کوئی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جہاں دن میں مظاہرے اور رات میں مشعل کے ساتھ جلوس نہ نکل رہے ہوں۔آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں رہنے والے ایک تاجر خالد لطیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کئی برس بعد اس قسم کے شدید مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔ آل موران طلبہ یونین نے شہریت کے ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی ہے اور سڑکوں پر گاڑیوں کے ٹائڑ جلتے نظر آرہے ہیں۔ پولیس نے ڈبروگڑھ اور گوہاٹی میں مظاہروں کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔ طلبہ یونین کی کال پر ریاست میگھالیہ میں بھی معمول کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ دکانیں اور بازار بھی بند ہیں۔حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں میں سی آر پی ایف تعینات کی گئی ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا بل بھارتی آئین پر حملہ ہے، جو شخص بھی اس کی حمایت کرتا ہے وہ ہماری قوم کی بنیاد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پر حملہ کر رہا ہے۔ ادھر پاکستان نے بھی اس متنازع بل کی شدید مذمت کی ہے اورقومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بل کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کا اقدام انسانی حقوق کے خلاف ہے یہ بل فوری طور پر واپس لیا جائے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے مودی حکومت کے کشمیر میں اقدامات اور شہریت سے متعلق متنازع قانون پر اسے ’فاشسٹ‘ قرار دیا۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر انہوںنے کشمیری عوام کو سلام پیش کیا اور کہا کہ نریندرمودی حکومت کے اقدامات ’آر ایس ایس کے ہندو راشٹرا‘ نظریے کی مثال ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی بھارتی پارلیمان میں شہریت ترمیمی بل کی منظوری کی مذمت کی اور کہا ہے کہ یہ قانون مذہب کے نام پر تقسیم کے خاتمے کے عالمی قوانین کے منافی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کا یہ اقدام مذہب کے نام پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ادھر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی اپیل پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا، مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی۔ کاروباری سرگرمیاں موقوف اور معمولات زندگی معطل رہی۔ چپے چپے پر تعینات بھارتی فوج سے بے خوف کشمیریوں نے احتجاجی اجتماعات منعقد کیے اور مودی سرکار کی جارحیت کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور عوامی مقامات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔کشمیری مظاہرین کشمیر بنے گا پاکستان کے واشگاف نعرے لگائے۔دوسری جانب امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے بھی بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر پابندیاں لگانے کے لیے زور دیا ہے۔ امریکا کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے کہا کہ ترمیمی بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے جس میں مذہب کی بنیاد پرمسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔علاوہ ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی بری طرح متاثر ہوئی ہے،مسلم اکثریتی علاقے میں بھارت کی طرف سے جاری کارروائیوں کے نتیجے میں سرینگر کی جامع مسجد کے میناروں سے دن میں 5مرتبہ آنے والی اذانوں کی آوازیں گزشتہ 4ماہ سے خاموش ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ بھارت نے گزشتہ موسم گرما میں کشمیر میں اضافی فوجی تعینات کرنا شروع کردیے تھے جو پہلے ہی دنیا میں سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والے علاقوں میں شامل تھا اوربھارت نے فوجی محاصرہ کرکے شہری حقوق پر سخت پابندیاںعاید کردیں، ہزاروں لوگوں کو گرفتارکیا،انٹرنیٹ اورٹیلیفون سروسز کو معطل اوراہم مساجد کو بند کردیا۔
