تریپورہ،ممبئی(اے پی پی+ آن لائن )بھارت میںمسلم مخالف قانون کے خلاف مظاہروں میں شدت‘ تریپورہ اور آسام میں زندگی مفلوج ۔نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے پاس کیا جانے والا شہریت (ترمیمی) بل کے خلاف ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں زبردست مظاہروں کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ ریاست تریپورہ میں تمام قبائل پر مبنی علاقائی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں، طلبہ فیڈریشنوں کے اعلان پر گزشتہ 3 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔مظاہروں کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہیں، ٹرینوں کی آمد ورفت بندہیں۔ا سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں جبکہ مختلف سرکاری دفاتر اور بازار بھی بند ہیں۔آسام کے شہر گوہاٹی میں جمعرات کو لوگ کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست مظاہرے کیے ۔آسام کے بہت سے شہریوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنمائوں کے گھروں پر حملے بھی کیے گئے ۔ نجی ہوائی کمپنیوں نے آسام اور دیگر شمال مشرتی ریاستوں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔علاوہ ازیں بھارت میں متنازع مسلم مخالف بل پاس ہونے کے بعد بھارتی پولیس کے اعلیٰ افسر نے احتجاجاً استعفا دے دیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق شہریت سے متعلق متنازع مسلم مخالف بل پاس ہونے کے بعد بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں تعینات آئی جی رینک کے اعلیٰ پولیس افسر عبدالرحمن نے سول نافرمانی کرتے ہوئے احتجاجاً عہدے سے استعفا دے دیا۔بھارتی پولیس سروس کے اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ شہریت سے متعلق متنازع بل میں واضح طور پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عبدالرحمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے اپنے استعفے سے متعلق وزارت داخلہ کو بھیجا گیا خط بھی منسلک کیا۔اپنی ٹوئٹ میں مستعفی ہونے والے پولیس افسر کا کہنا تھا کہ شہریت سے متعلق متنازع بل آئین میں موجود بنیادی خصوصیات کے خلاف ہیں لہٰذا اس بل کی مذمت کرتا ہوں اور سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے فرائض انجام نہیں دوں گا اور میں اپنے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں۔
