جوفیسیں وصول کی گئیں ،کیا وہ سندھ حکومت کو جمع کروائیں ؟ سندھ ہائیکورٹ کااستفسار
درخواست گزار نے ڈسٹرکٹ چیئر مین ملیر ،میونسپل کارپوریشن ملیر و دیگر کو فریق بنایا ہے
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائیکورٹ نے دودھ دینے والے جانوروں کے علاوہ دیگر جانوروں پر ٹیکس کی وصولی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت18 دسمبر تک ملتوی کردی۔ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دودھ دینے والے جانوروں کے علاوہ دیگر جانوروں پر ٹیکس کی وصولی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے ڈسٹرکٹ چیئر مین ملیر ، میونسپل کارپوریشن ملیر و دیگر کو فریق بنا کر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ 2018 کے نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں داخلہ پرصرف دودھ دینے والے جانوروں کی داخلہ فیس 300 روپے وصول کی جائے گی، حکومت اور بلدیاتی ادارے دودھ دینے والے جانوروں کے علاوہ سب سے فیس وصول کر رہے ہیں، ذبح کئے جانے والے جانوروں سمیت بچھڑوں کی بھی داخلہ فیس لی جا رہی ہے ، ٹھیکیدار سمیت تمام افسران سالانہ اربوں روپے غیر قانونی وصول کر رہے ہیں، 2019 میں ٹھیکیدار اور افسران سمیت ان کے خلاف ایف آئی آر بھی کاٹی تھی، ملزمان کے خلاف ایف آئی آر پر تاحال کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے ٹھیکیداروں سے استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے دودھ دینے والوں جانوروں کے علاوہ دوسروں سے فیس کیوں وصول کی؟ جوفیسیں وصول کی گئیں ،کیا وہ سندھ حکومت کو جمع کروائیں ؟ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ پیسہ سندھ حکومت کو جمع کروایا گیا یا نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے مزیدسماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

