
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک+خبرایجنسیاں) بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت نئی دہلی اور کولکتہ میں بھی درجنوں بسوں ، مزید ریلوے اسٹیشنز، ڈاک خانے اور عوامی املاک کو آگ لگا دی گئی ۔شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مختلف شہروں میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔بی بی سی کے مطابق نئی دہلی کے مختلف علاقوں میںدہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق لوگ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے،ہجوم اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہواجس کے بعد کئی بسوں، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔ نئی دہلی کے مقامی شہریوقار احمد کے مطابق اانہوں نے اس علاقے میں اتنا بڑا جلوس پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وقار احمد کے مطابق سب لوگ پر امن تھے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف پروکٹر نے بتایا ہے کہ پولیس زبردستی کیمپس میں داخل ہو ئی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد سہراب نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی کارروائی میں ایک طالبعلم کی ہلاکت ہو گئی ہے۔ پروفیسر محمد سہراب کا یہ بھی کہنا تھا ہم ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ہولی فیملی اسپتال میں لائے گئے ایک طالبعلم محمد تمیم کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کی ٹانگ پر گولیاں ماری ہیں۔نئی دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروِند کیجریوال نے مظاہرین سے احتجاج کے دوران پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طرح کے تشدد کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ادھر مغربی بنگال میں مظاہرین نے 5 ٹرینوں، 3 ریلوے اسٹیشنز اور 25 سے زائد بسوں کو آگ لگا دی۔ ریاست آسام کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، اسکول، کالجز اور بازار بند ہیں، سرکاری ملازمین نے بھی احتجاجاً کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، انٹرنیٹ پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں شدید مظاہرے ہورہے ہیں جہاں سیکورٹی کے معاملات فوج کے ہاتھ میں ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گوہاٹی میں اتوار کو بھی ہزاروں افراد نے احتجاج کیا اور آسام زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے جبکہ سیکڑوں فوجی اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔مقامی انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کرفیو کی وجہ سے ریاست میں تیل اور گیس کی پیدوار متاثر ہوئی ہے حالانکہ اتوار کو پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی اور چند دکانیں بھی کھل گئی تھیں۔ریاست میگھالے، اروناچل پردیش، کیرالہ اور ہریانہ میں بھی مظاہرے جاری ہیں۔ ادھر کیرالہ، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، پنجاب اور چھتیس گڑھ کے وزراء اعلیٰ نے متنازع قانون نافذ کرنے سے انکار کر دیا۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے بھی نئی دہلی میں بھارت بچاؤ ریلی کا اعلان کر دیا ہے۔بھارت کے اس متنازع قانون پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ اسرائیل نے اپنے شہریوں کو بھارت جانے سے روک دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ بھارت میں پرتشدد احتجاج سے اسرائیلیوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
