راتوں رات بلاک 14 اور 15 کی سڑکیں ادھیڑ دیں، گلیاں اور سڑکیں خندقوں میں تبدیل ہوگئیں
علاقہ مکینوں میں سخت اشتعال، بدعنوانیوں میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)کے ڈی اے کے مال پکڑ افسران نے گلستان جوہر کی تباہی کا منصوبہ بنالیا،روڈ کٹنگ مافیا نے شہر کے دیگر علاقوں کے بعد گلستان جوہر کا رخ کرلیا،راتوں رات بلاک15 اور 14کی سڑکیں ادھیڑ دی گئیں،کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کی گئی سڑکیںخندقوں میں تبدیل ہوگئیں،افسران نے چند لاکھ کا معمولی چالان وصول کر کے کئی کلومیٹر تک پکی روڈز کھدوادیں، کھودی گئیں سڑکوں کو کنٹونمنٹ فیصل کی حدود قرار دیکر افسران نے ڈی جی کے ڈی اے کو بھی ماموں بنادیا ،علاقہ مکینوں میں سخت اشتعال،بدعنوانیوں میں ملوث محکمہ انجینئرنگ کے افسران کیخلاف سخت کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ،انتہائی باثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی محکمہ انجینئرنگ کے کرپٹ اور بدعنوان افسران کی مبینہ ملی بھگت سے گلستان جوہر کے سب سے وی آئی پی بلاک15 اور14کی تمام اندرونی وبیرونی سڑکوں کو بری طرح سے کھود دیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ فائبرکیبل کی زیر زمین تنصیب کیلئے کئی کلومیٹر کی سڑکیں کھود کر برباد کردی گئی ہیں جس کی دوبارہ تعمیر کیلئے کے ڈی اے کو کئی کروڑ کا فنڈ درکار ہوگا،ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران نے چند لاکھ کا چالان وصول کر کے گلستان جوہر کو روڈ کٹنگ مافیا کے حوالے کردیا ہے جس کے باعث یہاں کی گلیاں اور سڑکیں خندقوں میں تبدیل ہوگئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ 13دسمبر سے 15 دسمبر تک دن رات سڑکوں کو بے دردی سے کھودا گیا جس کیلئے افسران نے ہی سرکاری تعطیلات کے دن کا انتخاب کیا تھا،کے ڈی اے کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ روڈ کٹنگ کی مد میں 8لاکھ کا چالان وصول کر کے کئی لاکھ روپے انڈر ٹیبل مبینہ طور پر افسران نے وصول کئے ہیں،جس میں کے ڈی اے کے متعلقہ انجینئرراحت فہیم کے علاوہ کامران ،ندیم بیگ اور تبریز نامی ملازم شامل بتائے جاتے ہیں۔

