English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک بنانے پر عمل پیرا ہیں ،عا لمی میڈیا

القمر

نئی دہلی(آن لائن)مودی بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک بنانا چاہتے ہیں، وہ اپنے ہندو قوم پرست نظریے پر جارحانہ طریقے سے عمل پیرا ہیں، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور آسام میں لاکھوں مسلمانوں کی ملک بدری کے واقعات سے ان خدشات کو تقویت ملی، مگر بابری مسجد کے فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق متنازع بھارتی قانون ان خدشات کو تقویت دے رہا ہے کہ وزیراعظم مودی سیکولر اور اجتماعیت کے اصولوں کو نظر انداز کر کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو ہندو قوم بنانا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر جوکہ واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی، جس کی خصوصی حیثیت اور جزوی خود مختاری ہندو قوم پرستوں کو ایک عرصے سے کھٹک رہی تھی، مودی حکومت نے 5 اگست کو اسے ختم کر کے دہلی کے ماتحت 2 علاقوں میں تقسیم کردیا۔ اس پر مودی نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں معاشی ترقی اور وہاں کرپشن پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے جبکہ کشمیریوں کی نظر میں اس کا مقصد ہندوئوں کو بسا کر علاقے کی علیحدہ شناخت ختم کرنا ہے۔ادھر آسام میں رواں سال شہریوں کی رجسٹریشن کے نام پر 19 لاکھ افراد کو شہریت کی فہرست سے نکال دیا گیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، انہیں حراستی کیمپوں یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم مودی کے دست راست امیتشا شہریوں کے قومی رجسٹر کا اطلاق پورے ملک پر کرنے کے عزم کا اظہا رکر چکے ہیں تاکہ 2024ء تک غیروں کو ملک بدر کیا جا سکے۔ امیتشا کی نظر میں غیروں سے مراد مسلمان ہیں، جنہیں مودی کے پہلے دور میں نصابی کتب سے مسلمانوں کا کردار حذف کرنے کے علاوہ ان تمام شہروں کے نام تبدیل کرتے دیکھا گیا جوکہ اسلامی تاثر دیتے تھے۔باقی کسر بھارتی عدالت عظمیٰ بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے کر پوری کر چکی ہے ۔ 1980ء کی دہائی سے اس مندر کی تعمیر مودی کی جماعت بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے میں شامل ہے، امیتشا مندر کی تعمیر 4 ماہ میں مکمل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ بی جے پی کا نیا اقدام ہمسایہ ملکوں سے آنے والے لاکھوں غیر قانونی تارکین کے لیے شہریت کا حصول آسان بنانا ہے، جن میں صرف ہندو، سکھ، جین، بدھ مت کے پیروکار اور مسیحی شامل ہیں۔ شہریت کے نئے قانون کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوآن نے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جمہوریت کی نوعیت سیکولر ہے، مگر مودی اکثریت کی بنیاد پر طاقت حاصل کرنے میں لگے ہیں جس میں اقلیتی حقوق کی کوئی گنجائش نہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس نے گزشتہ ہفتے شہریت کے نئے قانون پر سخت تشویش کا اظہا رکیا تھا۔
عالمی میڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے