لاہور( آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی)پر حملے کے بعد گرفتار وکلاکی رہائی اور گھروں پر چھاپوں کیخلاف کیس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور آئی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پی آئی سی کے سربراہ کو بھی چیمبر میں طلب کرلیا۔عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کردی۔سماعت کے دوران ملک بھر کی بار ایسویسی ایشنز نے پی آئی سی واقعے پر
عدالت کے سامنے معافی مانگ لی۔سماعت کے دوران عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہاں جانے والوں نے سب کا منہ کالا کیا۔عدالت کے مطابق اگر وکلالوگوں کے حقوق کیلیے لڑ سکتے ہیں تو اپنے حقوق کیلیے کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔ ہم اپنے آپ کو محدود کرکے لوگوں کو بتانا چھوڑ چکے ہیں کہ ہم جج ہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسپتال میں وکلاکو جانے کی ضرورت کیا تھی؟ جو کچھ میڈیا پر ہورہا ہے اور لوگ ویڈیو بناکرچلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی بہت کچھ ہے، معاملات ایک 2 دن میں یہاں تک نہیں پہنچے۔عدالت نے کہا کہ جنہوں نے کلنک کا ٹیکا لگایا وہ 2 فیصد ہیںجنہونے98 فیصد وکلاکو یرغمال بنا رکھا ہے، ایسے وکلاکے خلاف بار نے کیوں کارروائی نہیں کی؟۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ دو فیصد وکلاکے عمل سے افسوس یہ ہے کہ ہائی کورٹ کا کوئی جج وکلاکا کیس سننے کو تیار نہیں۔
وکلا رہائی کیس
