
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ اپنی کوچنگ میں پاکستان ٹیم کے وہ کھلاڑی منتخب کیے جو جتوا سکتے تھے، یہ تاثر درست نہیں کہ میری وجہ سے کچھ کھلاڑی پاکستان ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے تھے،عمر اور کامران اکمل میچ نہیں جتوا سکتے تھے تبھی ٹیم میں نہیں لیتا تھا، راولپنڈی ٹیسٹ میں مصباح کا اسپنر نہ کھلانا حیرت انگیز تھا،پاکستان کے ساتھ میری گہری وابستگی اور والہانہ لگاو ہے،لیکن اس وقت حریف سائیڈ سے تعلق ہے،مصباح الحق سے کوئی رقابت نہیں، بطور کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بہتری کا سوچا، پاکستان کے دورہ پر آنے والی سری لنکا کی ٹیم کے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ موجود ہے۔منگل کونیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ گزارے تین برسوں کا ہر لمحہ دل پر نقش اور یادگار ہے، پاکستان ٹیم کی میرے دل میں جگہ موجود ہے، دوبارہ پاکستان آکر اچھا لگا، میں نے کوچ کی حیثیت سے ہمیشہ ٹیم کی بہتری کے لیے سوچا، میں نے کسی کھلاڑی پر پاکستان ٹیم کے دروازے بند نہیں کیے، کرکٹ میں پسند ناپسند نہیں ہوتی۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ کھلاڑی کے انتخاب میں کوچ کارکردگی کو مدنظر رکھتا ہے، یہ درست نہیں ہے کہ میری وجہ سے کچھ کھلاڑی پاکستان ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے، عمراکمل اور کامران اکمل سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا،عمر اور کامران اکمل میچ نہیں جتوا سکتے تھے تبھی ٹیم میں نہیں لیتا تھا، پاکستان ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی، اپنی کوچنگ میں پاکستان ٹیم کے وہ کھلاڑی منتخب کیے جو جتوا سکتے تھے، کراچی میں کسی ٹیم کو نفسیاتی برتری نہیں ہوگی، اب ایک نیا چیلنج قبول کیا ہے جب کہ مصباح الحق سے تعلق ہے، رقابت نہیں، میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں اور ہم دونوں کے درمیان کوئی کھنچاو نہیں، سیریز میں ان کو بطور حریف دیکھ کر اچھا لگا۔مکی آرتھر نے کہا کہ سری لنکا ایک اچھی ٹیم ہے اور اس میں ٹیلینٹڈ کھلاڑی موجود ہیں، کراچی ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی پیش کرنے کی کوشش ہوگی،پنڈی ٹیسٹ میں عابد علی اور بابر اعظم نے اچھی بیٹنگ کی،، دنیا جانتی ہے بابر اعظم ورلڈ کلاس کھلاڑی ہے، بابر اعظم اور عابد تیز کھیلے تو انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ خوشی ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ شروع ہوئی، ایک سوال کے جواب میں میکی آرتھر نے کہا کہ فواد عالم باصلاحیت کرکٹر ہے لیکن وہ دس برسوں کے دوران پاکستان اسکواڈ میں جگہ نہ پا سکا، میرے ہی نہیں بلکہ دوسرے کوچز کے ادوار میں بھی وہ منتخب نہیں ہوسکا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی ٹیسٹ میں مصباح کا اسپنر نہ کھلانا حیرت انگیز تھا۔
