کولکتہ میں 15 بسوں اور دیگر شہروں میں کئی ریلوے اسٹیشن ٗ ڈاک خانے اور عوامی املاک کو آگ لگادی ٗ آسام میں پولیس نے لڑکے کے منہ میں گولی مار دی ٗ متاثرہ علاقوں میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے
ریاست میگھالے ٗ مغربی بنگال ٗ ارونا چل پردیش ٗ کیرالہ اور ہریانہ میں مودی سرکارکیخلاف احتجاج چوتھے روز میں داخل ٗ مغربی بنگال میں گورنر راج لگانے کی دھمکی ٗ مودی سرکار کیخلاف پورا بھارت احتجاج کیلئے نکل آیا
نئی دہلی (اے ایف پی/مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں مسلم مخالف متنازع بل کے خلاف جاری پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں مزید 6 افراد ہلاک جبکہ 100 زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب مودی سرکار نے مغربی بنگال میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دے دی، بھارت میں شہریت کا متنازع بل پاس ہونے پر مودی سرکار کے خلاف احتجاج چوتھے روز میں داخل ہوگیا، ریاست میگھالے، مغربی بنگال، اروناچل پردیش، کیرالہ اور ہریانہ میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب ریاست آسام میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتیں 6 ہوگئیں جبکہ کولکتہ میں 15 بسوں اور دیگر شہروں میں کئی ریلوے اسٹیشنز، ڈاکے خانے اور عوامی املاک کو آگ لگا دی گئی۔ آسام میں جاری احتجاج کے دوران پولیس نے 17 سالہ لڑکے کو منہ میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی مشیر راہول سنہا نے متنازع شہریت کے بل کے خلاف مظاہروں کو کچلنے کے لیے مغربی بنگال میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دے دی راہول سنہا نے کہا ہے کہ اگر اسی طرح سے مظاہرے جاری رہے تو گورنر راج نافذ کیا جائے گا۔ دوسری جانب پارلیمنٹ اور صدر سے منظوری ملنے کے بعد مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ اس متنازع قانون پر عملدرآمد نہیں کریں گے۔ ادھر نئی دہلی کے طلبہ نے نریندر مودی کو وزیراعظم اور امیت شاہ کو وزیر داخلہ ماننے سے ہی انکار کر دیا ان کا موقف ہے کہ ان دونوں نے آئین کو توڑا ہے۔ عوام نے مودی کے حمایتی میڈیا کے خلاف بھی احتجاج کیا، مغربی بنگال اور آسام میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

