بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کے نگران وزیر اعظم سعد حریری کی سیاسی جماعت مستقبل موومنٹ آیندہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ یہ بات حریری کے قریبی ذرائع نے جمعرات کے روز بتائی۔ مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ ایک امیدوار کو نئے سربراہ حکومت کے طور پر بہت مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ ملکی صدر نے مختلف پارلیمانی دھڑوں کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے، تاکہ آیندہ وزیر اعظم کے طور پر مختلف ناموں پر غور کیا جا سکے۔ اجلاس میں مختلف پارلیمانی گروہوں کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے نام پیش کیے گئے ہیں اور ان پرغور کیا جا رہا ہے۔ بعض سیاسی گروپوں کی طرف سے لبنان میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی تجویز پیش کی گئی، مگر اسے مسترد کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سعد حریری کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے معذرت کے بعد صدر میشال عون کے پاس 3 آپشن ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے سیناریو پر اتفاق رائے تک مشاورت ملتوی کرنا، کسی ایک نام پر اتفاق رائے کے لیے پارلیمانی گروپوں میں مشاورت جاری رکھنا اور کسی ایک نام پر اتفاق رائے کے بعد صدر کا تمام سیاسی قوتوں کو اس نام پر اعتماد میں لینا ہے، تاکہ ملک میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی ایک نام پراتفاق کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جن ناموں پرغور ہو رہاہے، ان میں سابق وزیراعظم تمام سلام، اقوام متحدہ میں سابق سفیرنواف سلام، سابق وزیر حسان دیاب اور سابق وزیر خالد قبانی شامل ہیں۔ دوسری جانب دارالحکومت بیروت میں پارلیمان کے باہرسیکڑوں مظاہرین نے احتجاج اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتنے اٹھا رکھے تھے، جن پرملک میں سیاسی تبدیلی اور کرپشن سیاست دانوں اور عہدے داروں کے احتساب کے حق میں مطالبات درج تھے۔
