اسٹراسبرگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین میں زیر حراست ایغور ماہر تعلیم الہام توہتی کی بیٹی نے اپنے والد کو رواں سال دیا گیا سخاروف پرائز وصول کرلیا۔ یورپی پارلیمان یہ انعام انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے والوں کو دیتی ہے۔ امریکا میں مقیم ان کی بیٹی جوہر الہام نے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں تقسیم ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے 50 سالہ والد نے ایغور باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے طویل مہم چلائی اور زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل آبادی اور ہان چینی اکثریتی آبادی کے درمیان مصالحت اور باہمی مفاہمت کے لیے کوششیں کیں۔ انہیں چینی حکام نے 5 سال قبل حراست میں لیا تھا اور علاحدگی پسند تحریک چلانے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جوہر الہام نے یہ کہتے ہوئے ایوارڈ وصول کیا کہ وہ اپنے والد کی داستان سنانے کا موقع ملنے پر شکر گزار ہیں، کیوں کہ ان کے والد کو یہ موقع میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کا اتاپتا نہیں جانتیں۔ جوہر الہام نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت نے کم سے کم 10 لاکھ یا شاید اور زیادہ ایغور باشندوں کو مشقتی کیمپوں میں بند کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعض اس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایغور باشندوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی حمایت کی اپیل کی۔ انہوں نے یورپی پارلیمان کے ارکان سے کہا کہ وہ چینی حکام کو اس کے لیے ذمے دار ٹھہرانے کے لیے اپنے قانون کا استعمال کریں۔ الہام توختی ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی امور کے ایک اچھے اسکالر ہیں۔ وہ ایغوروں اور مقامی ہان لوگوں کے درمیان تعلقات پر اپنی ریسرچ کے لیے بھی معروف ہیں، لیکن سنکیانگ میں ایغور مسلمان اقلیت سے تعلق پر وہ اکثر حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے تھے۔
