اسلام آباد( آن لائن ) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جگہ نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے۔ ان کے بقول یہ عدالت ماضی میں بھی چیلنجز کا مقابلہ کرچکی ہے اور مستقبل میں بھی پورے وقار اور سنجیدگی کے ساتھ ان چیلنجز کو حل کرے گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سبکدوش کے حوالے سے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت عظمیٰآئین کے تحفظ کے لیے بھی نبرد آزما رہی ہے،ماضی میں بھی عدالت عظمیٰآزاد عدلیہ کے تحفظ کے لیے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے 184تین کا استعمال بھی آئین کا حصہ ہے۔آئین سوموٹو کے حق کا استعمال بنیادی انسانی حقوق کے لیے دیتا ہے ۔ نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کو شہری اور معاشرتی ڈھانچے کی تعمیر اور فراہمی کرنی چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے ریاست پر ‘انسانی دوست سوچ’ کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام محکموں میں بدعنوانی اور بیقاعدگیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
جسٹس گلزار
