English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نئی دہلی میں دفعہ144نافذ‘ موبائل فون سروس معطل‘ 100گرفتار

اترپردیش، گجرات اور کرناٹک ریاستوں میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں
بھارتی پولیس کا مظاہرین کو بسوں پر باندھ کر تشدد ، مودی سرکار ہر محاذ پر ناکام ہوئی
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلم مخالف ایجنڈے پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کے بعد بھارتی پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ کرکے100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اترپردیش، گجرات اور کرناٹک ریاستوں میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، بھارتی پولیس نے مظاہرین کو بسوں پر باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، دہلی کے میٹرو سٹیشن بند کردئیے گئے اور ملک کے کئی علاقوں میں موبائل فون سروس بھی معطل کردی گئی۔ بھارتی اپوریشن جماعت کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت معیشت کی ناکامی کے بعد نئے نئے قانون لاکر اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کو شش کررہی ہے، وزیراعظم نریندرمودی بڑھتی بے روزگاری ، بھوک ، عصمت دری ، بدعنوانی اور روزگار میں کمی پر جواب دیں۔یہ احتجاج شہریت کے نئے متنازع قانون کے نفاذ کے خلاف شروع ہوا جس میں تین پڑوسی ممالک سے آنے والے لوگوں کے لیے شہریت کے قوائد میں نرمی کی گئی لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔دریں اثناء بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کے خلاف احتجاج کی لہر کئی ریاستوں تک پھیل گئی ہے، متعدد شہروں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ نئی دہلی میں انٹرنیٹ سمیت ایس ایم ایس سروس معطل ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے بعد اتر پردیش اور کرناٹک میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، نئی دہلی اور یوپی میں پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ نئی دہلی میں انٹرنیٹ معطل ہے اور ایس ایم ایس سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ آسام،نئی دہلی، مغربی بنگال، اتر پردیش سمیت دیگر بھارتی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں، بہار اور کرناٹک میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ہڑتال بھی کی جارہی ہے۔نئی دہلی کے لال قلعے کے قریب دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ 60 این جی اوز اور سٹیزن گروپوں کا اتحاد بھی قانون کے خلاف احتجاج کر رہا ہے جسے کانگریس کی بھی حمایت حاصل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے