متنازع شہریت ترمیمی بل قانون کیخلاف احتجاج کا دائرہ پورے بھارت میں پھیل گیا، پولیس 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لے چکی ہے
مودی حکومت کی جانب سے اکثر بڑے شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی، اس کے باوجود مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14ہو گئی ہے۔بھارت کے اکثر بڑے شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جہاں متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک14افراد ہلاک اور 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔بھارت بھر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے تقریبا 12 اضلاع میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ گورکھپور، فیروز آباد ، کانپور اور ہاپور میں بھی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔گجرات کے شہر احمدآباد میں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کانگریس کانسلر شہزاد خان پٹھام سمیت 49افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ 5ہزار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے جھڑپوں اور مظاہروں کا مرکز رہنے والی نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر بھی 2ہزار سے زائد طلبہ نے احتجاج کیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نئے قانون سے بھارت سیکولر تشخص بری طرح مجروح ہو گا۔ان جھڑپوں اور مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ ہفتے اسلامی یونیورسٹیز سے ہوا تھا جس کا دائرہ کار بعدازاں ملک بھر میں پھیل گیا۔اب تک مظاہروں میں 14افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 5افراد آسام اور دو ریاست کاناٹکا میں جان کی بازی ہار گئے جبکہ جمعہ کو احتجاج اور جھڑپوں میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 4افراد کی لاشیں میرٹھ کے ہسپتال میں چار لاشیں لانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔جہاں ایک طبقہ اسے مسلمان مخالف بل تصور کرتا ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دیگر ہندو جماعتوں کا ماننا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں بھارت آنے والے مہاجرین کی حوصلہ افزائی ہو گی جہاں ملک میں پہلے موجود سوا ارب سے زائد آبادی کو پہلے ہی بنیادی سہولیات تک کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہروں کو آج آٹھواں روز ہے جن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مزید شدت آئی اور ملک میں مظاہروں اور احتجاج کا دائرہ کار ہر گزرتے دن کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

