کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیس) ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے شہریت کے متنازع قانون پر ایک بار پھر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر رہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مہاتیر محمد نے کوالالمپور سربراہی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو اقدام بھارت کررہا ہے اگر ہم ملائیشیا میں ایسا کریں تو مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہو گا؟ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی اور ہر کوئی اس سے متاثر ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے متنازع قانون کی بھارت کو کیا ضرورت تھی؟ جس سے بھارت میں ہر طرف افراتفری پھیل رہی ہے اور لوگ مر رہے ہیں۔ مہاتیر محمد نے یہ بھی کہا کہ چین میں مسلمانوں اور بھارت میں شہریت ترمیمی بل کے نام پر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بناکر امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ایک ریاست کی حیثیت میں ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور عالمی قوتوں کو بھی اس سلسلے میں ااگے آنا ہوگا۔دوسری جانب بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی تنقید کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے دیا۔اتوار کو نئی دہلی میں ملائیشیا کے سفیرکو طلب کر لیا گیا ہے اور بھارت کی جانب سے مہاتیر محمد کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملائیشیاحقائق جانے بغیر بھارت کی اندرونی صورتحال پر تبصرے سے باز رہے۔
مہاتیر محمد
