کراچی ميں جاری پاک سری لنکا ٹيسٹ ميچ میں قومی ٹيم کی گرفت مضبوط ہوگئی ہے، ٹیم کو فتح کيلئے صرف تين وکٹيں درکار ہيں ۔
چوتھے روز کے کھيل کے دوران 476 رنز کے تعاقب ميں سری لنکن ٹيم شديد مشکلات کا شکار رہی ، دوسری اننگز ميں سری لنکا نے بيٹنگ کا آغاز کيا تو محمد عباس نے پہلی کاميابی دلوائی، سری لنکا کی آدھی ٹيم 97 رنز پر پويلين لوٹ گئی تھی۔
ايسے ميں ڈک ويلا اور فرنينڈو نے 104 رنز کی شراکت جوڑی تاہم ڈک ويلا 65 رنز پر حارث سہيل کا شکار بنے۔
چوتھے روز کے آخری اوور ميں نسيم شاہ نے ايک اور کھلاڑی کو پويلين کی راہ دکھا دی، سری لنکن اوپنر فرنينڈو 102 رنز کے ساتھ کريز پر موجود ہيں ۔
دوسری اننگز میں نسيم شاہ نے تين شکار کيے تاہم پاکستان کو جيت کے لئے تين وکٹيں اور سری لنکا کو دو سو چونسٹھ رنز درکار ہيں ۔
واضح رہے قومی ٹیم کے سلامی بلے بازوں اور کپتان اظہر علی کے بعد بابراعظم نے بھی سنچری اسکور کی۔
اظہرکی سنچری کے ساتھ پاکستان کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا،یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے اوپنر اور ون ڈاؤن بلے باز نے ایک اننگز میں سنچریاں اسکور کی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اظہر علی نے 118 اور بابراعظم نے 100 رنز بنائے، سری لنکا کی جانب سے کمارا نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل تیسرے روز کے اختتام پر میزبان ٹیم نے دو وکٹوں کے نقصان پر 395 رنز بنائے تھے، عابد علی نے 174 اور شان مسعود نے 135 رنز بنائے۔
پاکستانی اوپنر عابد علی نے ایک اور سنچری اسکور کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا، وہ دو ٹیسٹ میچز میں دو مسلسل سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پر دنیا کے 9ویں بلے باز بن گئے ہیں۔
اس سے قبل سابق پاکستانی اوپنر یاسر حمید نے اپنے پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں سکور کی تھیں جبکہ وجاہت اللہ واسطی نے اپنے دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریا ں بنائی تھیں۔
کھیل کے اختتام پر اظہر علی 57 اور بابر اعظم 22 رنز پر کھیل رہے ہیں، سری لنکا کی جانب سے کمارا نے دونوں وکٹیں حاصل کیں۔
کھیل کے اختتام پر عابد علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پہلا ہدف 80 رنز بنا کر سری لنکا کی پہلی اننگز کی برتری کا خاتمہ تھا، اس کے بعد لمبی شراکت داری کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں 105 میچز کھیلے جس سے حاصل ہونے والے تجربے سے بہت فائدہ ہوا، مجھے میرے ساتھی کھلاڑی اور انتظامیہ لیجنڈ کہہ کر بلاتے ہیں تو بہت اعتماد ملتا ہے۔
سنچری بنانے والے دوسرے اوپنر شان مسعود کا کہنا تھا کہ میرے لیے کراچی میں ٹیسٹ سنچری بنانے کی زیادہ اہمیت ہے، ہمارا ہدف تین سو رنز کی شراکت داری کا تھا جو بدقسمتی سے پورا نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ وکٹ تھوڑی تبدیل ہوئی اورگیند تیز نکل رہا تھا۔
سری لنکا نے پہلی اننگز میں 80رنز کی برتری حاصل کی تھی، میچ کے تیسرے روز سری لنکن ٹیم 271رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی جب کہ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 191 رنز بنائے تھے۔
سری لنکا نے دوسرے روز کا آغاز تین وکٹ کے نقـصان پر 64 رنز سے کیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے فاسٹ باوٗلر شاہین آفری نے 5 اور محمد عباس نے چار وکٹیں حاصل کیں ۔
