اسلام آباد (صباح نیوز) قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 70فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے ۔ نیب پیشہ ورانہ کارکردگی شفافیت ، میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام وسائل برئوے کار لا رہا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج
آئے ہیں، نیب کو 2019ء میں2018ء کے مقابلے میں دگناہ شکایات موصول ہوئیں ،نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے، اس سے نہ صرف نیب افسران کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب میں مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ نیب نے بد عنوانی کے خاتمے کے لیے چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے ملک بھر کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی گئی ہیں۔ متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کے لیے 60 پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ وفاقی سطح پر یہ کمیٹیاں سی ڈی اے، وزارت مذہبی امور، ایف بی آر، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی ) جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ صحت، تعلیم، ریونیو، ہائوسنگ اور کوآپرٹیو میں قائم کی گئی ہیں جبکہ وزارت مذہبی امور میںنیب کی قائم کی گئی پریوینشن کمیٹی نے حج انتظامات کو بہتر بنانے اور حاجیوں کے مسائل کے حل کے لیے جو سفارشات تیارکیں ان پر وزارت مذہبی امور نے عمل درآمد کیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے موثر نتائج سامنے آئے ہیں۔
