اسلام آباد (صباح نیوز) محسن پاکستان ومعروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خود پر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انہوںنے عدالت عظمیٰ میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے جس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ان کی نقل وحرکت پر پابندی آئینی حق کے منافی ہے۔ زبیر احمد راناایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں آزادانہ نقل و حرکت کے
بارے میں خواجہ آصف اور پرویز مشرف کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ پہلے ہی مذکورہ فیصلوں میں آزادانہ نقل وحرکت کے بارے میں قانون طے کر چکی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ وہ ایک محب وطن اور سچے پاکستانی ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ کے آر ایل کے کسی سائنسدان کے ساتھ نہیں کیا گیا، سیکورٹی کے حصار میں آزادانہ نقل وحرکت ممکن نہیں، قانون میں آزادانہ نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو کینسر کے مرض کی تشخیص ہو چکی ہے، ایسی حالت میں پابندیاں جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ درخواست میں ڈاکٹر قدیر خان کا ہائی کورٹ کو لکھا گیا خط بھی شامل کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ وہ 84 سال کی عمر تک پہنچ گئے ہیں، اکثر بیمار رہتے ہیں، ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ، یہ ایک گمراہ کن حکومتی پروپیگنڈا ہے، آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے جھوٹ کا پلندا پیش کیا گیا، ایک عمر رسیدہ شخص کو اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں کیا خطرہ پیش آسکتا ہے۔
