
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کے معاملے پر چین کے شہر چینگ ڈُو میں ایک سہ ملکی سربراہ اجلاس ہوا جس میں میزبان ملک کے وزیر اعظم، جنوبی کوریا کے صدر اور جاپانی وزیر اعظم شریک ہوئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اہم اجلاس میں کئی دیگر معاملات کے ساتھ خصوصاً جزیرہ نما کوریا کے بحران پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس دوران تینوں ممالک کے رہنماؤں نے شمالی کوریا کے متنازع معاملات کے حل کے لیے قریبی رابطہ کاری اور مسائل کو پُرامن انداز میں حل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ جنوب مغربی چینی شہر چینگ ڈُو میں ہونے والے اجلاس میں جاپانی وزیر عظم شینزوآبے، جنوبی کوریائی صدر مون جائے اِن اور میزبان وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اتفاق کیا کہ شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل پروگراموں سے دست بردار ہونا حالات میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا رواں برس کے ختم ہونے سے قبل اپنے اوپر عائد پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔ چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے سہ فریقی اجلاس کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ تینوں ممالک کوریائی تنازع سے متعلق مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر متفق ہیں، اور یہی تینوں اقوام کے مفاد میں ہے۔ جاپانی وزیر اظم نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت شمالی کوریا کے حوالے سے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کے ساتھ روابط برقرار رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو حکومت کی اولین ترجیح جاپان کا بھرپور دفاع ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کا کہنا تھا کہ تینوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے اور جزیرہ نما کوریا میں مستقبل امن کے قیام کے لیے قریبی راوبط پر اتفاق کیا ہے، اور یہی ہماری خواہش ہے۔ علاوہ ازیں امریکا کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو کھلے عام اعتراف کرنا پڑے گا کہ شمالی کوریا سے متعلق ان کی پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ نیوز ویب سائٹ ایگزیوز پر شائع انٹرویو میں سابق مشیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ خیال سچ نہیں کہ امریکا شمالی کوریا پر انتہائی دباؤ ڈال رہا ہے۔
