
ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں ہزاروں مظاہرین ایک بار پھر حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہانگ کانگ کی پولیس نے کرسمس کے موقع خریداری کے لیے شاپنگ مال آنے والے شہریوں اور سیاحوں کی پروا نہ کرتے ہوئے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود اکثر مظاہرین نے چہرے پر سیاہ ماسک چڑھارکھے تھے۔ اس موقع پر سیکورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو دھمکانے کے لیے ان پر بندوقیں تاننے سے بھی گریز نہ کیا اور سادہ لباس میں موجود اہل کار مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے رہے۔ شاپنگ مال میں مظاہروں کی اطلاع ملتے ہی پولیس سربراہ ٹینگ اپنی فورس کے ساتھ جائے وقع پہنچ گئے اور خود سارے عمل کی نگرانی کرتے رہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد ہانگ کانگ کا مانگ کاک ریلوے اسٹیشن بند کردیا گیا۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے ایک جگہ جمع ہوکر پولیس کے سامنے اپنی چھتریاں آگے کرکے ڈھال بنالی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں برس کے اختتام کے موقع پر ہانگ کانگ میں جاری احتجاج کو 7 ماہ مکمل ہوجائیں اور نصف سال سے زائد عرصے پر محیط مظاہرے آیندہ برس بھی جاری رہیں گے۔ ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین بلدیاتی انتخابات میں فتح حاصل کرکے چین کی کٹھلی پتلی حکومت کی خاتون سربراہ کیری لام کے خلاف اپنی طاقت منواچکے ہیں۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایک عظیم الشان پرامن ریلی بھی نکالیں گے، جس میں 8لاکھ افراد شرکت کریں گے، تاہم اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
