فیصل آباد(جسارت نیوز)کسان بورڈکے ضلعی صدرعلی احمدگورایہ نے شوگرمافیاکی جانب سے فیصل آبادڈویژن میں شوگرملیں بندکرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مل مالکان نے کسانوں سے ان کی محنت کی کمائی لوٹنے کیلیے جان بوجھ کر ملیں بندکی ہیںجبکہ ڈویژن اورضلعی انتظامیہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے پر تیار نہیں ہوئی۔کسانوں کا گنا کھیتوں ، کنٹوں ، سٹرکوں ، اور ملوں کے دروازوںپرپڑا رل رہا ہے۔ اورکوئی بھی انتظامی ادارہ کسانوں کی داد رسی اورشوگرملزمالکان کے اس ظلم کے خلاف کارروائی کرنے کوتیار نہیں۔ شوگرمل مالکان نے طے شدہ منصوبے کے تحت ملوں کو بندکیا ہے تاکہ کاشتکاروںسے ہزاروں ٹن گنا اونے پونے داموں خریدسکیں،گنے کی فصل پورے سال کی فصل ہے جو کسانوں کی سال بھر کی کمائی ہوتی ہے اس کولوٹنے کیلیے شوگرملوں کے اس ظلم کے خلاف ہرذی شعورکو آواز بلند کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ شوگرملزمافیاکو کسانوںکا استحصال نہیں کرنے دیں گے شوگرملزمالکان نے کسانوں کواونے پونے داموں گنا فروخت کرنے پرمجبورکرنے کے لیے ملیں بند کی ہیں تاکہ گنے کے کاشتکار مجبورہوکراپنی سال بھرکی کمائی ملوںکو حکومت کے مقررکردہ ریٹ سے کم دینے پر تیار ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرپنجاب حکومت اورضلعی انتظامیہ نے فوری طور پرملیں نہ چلوائیں توہزاروں کسان کسان بورڈ کے تحت شوگرملوں اور انتظامیہ کے دفاتر کا گھیرائو کریں گے اورڈویژن بھرکے ہرڈی سی آفس کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے انہوں نے کہاکہ پہلے ہی صوبائی حکومت کی جانب سے گنا کاریٹ انتہائی کم نرخ190روپے فی من مقررکرکے کسان دشمنی پرمبنی اقدام کیاگیاہے ۔ ڈیزل ، کھاد،بجلی مہنگی ہونے سے کسانوں کے زرعی اخراجات بہت حد تک بڑھ چکے اس کے مقابلے میں گورنمنٹ کا گنے کا ریٹ محض 190 روپے کسانوںکے معاشی قتل کے مترادف تھا۔ اور اب شوگرمافیاکی جانب سے کاشتکاروں سے گنااس سے بھی انتہائی کم قیمت میں فروخت پرمجبورکرنے کیلیے ملوںکو بندکردیاگیا۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ حکو مت شوگر ملزمافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔چینی کا ریٹ دگنا ہو سکتا ہے تو گنے کا ریٹ بھی پورادیاجائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکام زرعی پالیسیوں نے شعبہ زراعت کا بیڑا غرق کر دیا ناصرف ملکی معیشت تباہ ہوئی بلکہ پاکستان کا کسان بھی معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہوا۔انہوں نے کہاکہ بندہونیو الی شوگرملوںکو جرمانہ لگا کر دوبارہ چلائی جائیں یا گورنمنٹ ان ملوں کو اپنی نگرانی میں چلائے تاکہ کاشتکاروں کا نقصان کم سے کم ہو سکے۔
