نئی دہلی( آن لائن )متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارت میں 100 تنظیموں نے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔بھارت کے متنازع قانون کے خلاف مشترکہ لڑائی ‘ہم بھارت کے شہری’ کے بینر تلے لڑنے کا فیصلہ کیا۔سوراج ابھیان پارٹی کے بانی یوجندر یادو نے کہا کہ ‘ہم سی اے اے ، این پی آر اور ملک گیر این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی بینر کے تحت آئیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہمارے آئین کا پہلا جملہ ہے اور اس سے بڑا کوئی اور نہیں ہوسکتا’۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ گروپ جنوری میں ملک گیر مظاہروں اور احتجاج کا انعقاد کرے گا۔یوجندر یادو کے مطابق احتجاج کا سلسلہ 3 جنوری سے شروع ہوگا جو ساویتربائی پھولے کی یوم پیدائش ہے۔خیال رہے کہ ساویتر بائی پھولے کو بھارت کی پہلی استانی تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے برصغیر میں برطانوی دور میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ گروپ 8 جنوری کو احتجاج کرے گا، یہ وہ دن تھا جب کسانوں اور بائیں بازو کی حمایت یافتہ ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اگلا مظاہرہ 12 جنوری کو ہوگا، جو یوم نوجوانوں کا قومی دن اور سوامی ویویکانند کا یوم پیدائش ہے۔علاوہ ازیں بتایا گیا کہ اگلا احتجاج 17 جنوری کو ہوگا جس دن روہت ویمولا کو اس وقت کی انتظامیہ نے قتل کردیا تھا۔میڈیا سروس کے مطابق 14 اور 15 جنوری کو سنکرانتی ہے اور اس دن ہم سماجی انصاف کا دن منائیں گے جو تمام ثقافتوں کے لوگوں کو ایک ساتھ ملا دیتے ہیں۔یوجندر یادو نے کہا 26 جنوری کو ہم آدھی رات کو اپنا جھنڈا اٹھائیں گے اور 30 جنوری کو ملک بھر میں ایک انسانی چین بنائیں گے۔
