ڈاکٹر عشرت العباد کی جانب سے تردید کئے جا نے کے باوجود باوثوق سیاسی حلقے نئی سیاسی جماعت کی تیاریوں کی نوید سنارہے ہیں
کراچی اور دبئی میں رابطے تیز ہوگئے، مشرف کو سرپرست بنانے کا مقصد سیاستدانوں کو غیبی سرپرستی کا اشارہ دینا ہے، ذرائع
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے کی تردید کیے جانے کے باوجود باوثوق حلقوں کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی سربراہی میں کراچی کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی تیاری شروع ہوگئی ہے، اس جماعت کا مجوزہ نام پاکستان مہاجر اتحاد یعنی پی ایم آئی ہو سکتا ہے۔ تنظیم کی اصل کمان سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ہاتھ میں ہوگی جو ان دنوں مشرف کی طرح دبئی میں مقیم ہیں۔ تنظیم کی سرپرستی کے لیے مشرف کی ہاں کا ابھی انتظار ہے۔ اہم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بعض طاقتوں کی حمایت سے عشرت العباد دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں، انہوں نے دبئی اور کراچی میں اپنے رابطے بڑھا دیے ہیں، ان رابطوں کا مقصد مہاجروں کے لیے ایک نئی جماعت کھڑی کرنا ہے جس کے ممکنہ سرپرست سزا یافتہ مجرم پرویز مشرف ہو سکتے ہیں۔ مشرف کو سرپرست بنانے کا مقصد عوام اور سیاستدانوں کو غیبی سرپرستی کا اشارہ دینا ہے، جماعت کی تشکیل کے لیے متحدہ پاکستان، متحدہ لندن اور پاک سرزمین پارٹی کے کئی رہنمائوں سے رابطے کیے جارہے ہیں ان میں بابر غوری، حیدر عباس رضوی، وسیم اختر اور وسیم آفتاب سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔ فاروق ستار اور عامر لیاقت حسین سے بھی رابطوں کی تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پارٹی کھڑی ہوگئی تو اسے خورشید میموریل ہال دے دیا جائے گا جو ماضی میں الطاف کی متحدہ کے لیے نائن زیرو کے بعد سیکنڈ ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ ہال اب تک سیل پڑا ہے اور متحدہ پاکستان کی کوششوں کے باوجود اس کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ جماعت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ متحدہ پاکستان کے رہنما عامر خان ہیں جن کا موقف ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی جگہ مہاجروں کی کوئی اور جماعت بنانا یا متحدہ یا متحدہ کا نام بدلنا سیاسی خودکشی ہوگی۔ کیونکہ ووٹر کی جذباتی وابستگی اسی نام کے ساتھ ہے تاہم ذرائع کے بقول عامر خان کا اعتراض رَد کرکے متحدہ پاکستان کے کئی اہم رہنمائوں کو توڑنے کی کوششیں جاری ہیں، امکان ہے کافی رہنما نئی تنظیم جوائن کرلیں گے۔

