حکومت کے اپوزیشن سے رابطے ‘ آرمی ایکٹ میں ترامیم کا بل آج دونوں ایوانوں سے منظور کرا یا جائے گا‘ ملک عامر ڈوگر
بلاول کی زیر صدارت اجلاس میں فوجی بل کی حمایت کا فیصلہ‘ جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے طے کرنا چاہتے ہیں
لندن میں موجود لیگی قیادت کی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی ہدایت‘مشاہد اللہ خان نے بل کی حمایت کی تصدیق کر دی
فوجی بل کی حمایت کرنے پر گالیاں دی جارہی ہیں کسی قسم کی ڈیل کے تاثر کو مسترد کرتے ہیں‘ خواجہ آصف کی ٹی وی سے گفتگو
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ن لیگ اور پیپلزپارٹی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت پر تیار ہوگئی۔ حکومت آرمی ایکٹ میں ترامیم کا بل آج جمعہ ہی کو دونوں ایوانوں سے منظور کرا لے گی۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حوالے سے پرویز خٹک کی قیاد ت میں شبلی فراز اور اعظم سواتی پر مشتمل حکومتی وفد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں گیا جہاں انہوں نے خواجہ آصف، ایاز صادق اور رانا تنویر سمیت دیگر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حکومتی وفد نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی۔حکومتی اراکین کے ساتھ اجلاس کے بعد ن لیگ کے ذرائع نے بتایا کہ لندن میں موجود پارٹی قیادت نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی ہدایت دی ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی اس لیے وہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔مذکورہ ملاقات کے بعد صحافیوں گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 3 جنوری کو یہ معاملہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔دوسری جانب ن لیگ کے سینئر رہنما مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مکمل حمایت کر دی ہے۔ علاوہ ازیں خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کرنے پر ہمیں گالیاں دی جارہی ہیں تاہم انہوں نے کسی قسم کے ڈیل کے تاثر کو مسترد کیا ہے۔ دوسری جانب بلاول زرداری کے زیر صدارت پیپلزپارٹی کے اجلاس میں بھی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کیا گیاتاہم حکومت سے کہا جائے گا کہ اس اہم معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے، پی پی پی ارکان نے مسودہ نہیں دیکھا، انہیں تیاری کا موقع دیا جائے۔ بعد ازاں بلاول نے ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ حکومتی کمیٹی کے اراکین متوقع قانون سازی پر بات چیت کے لیے زرداری ہاؤس اسلام آباد آئے تھے۔بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے طے کرنا چاہتی ہے تاہم کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لیے جمہوری عمل کی پاسداری ہے، پیپلز پارٹی اس معاملے پر دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔ادھر چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آرمی ایکٹ میں ترامیم کا بل آج جمعہ ہی کو دونوں ایوانوں سے منظور کرا لے گی۔صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا ترمیمی ایکٹ جمعہ سے پہلے قومی اسمبلی میں پیش اور منظور ہو گا۔انہوں نے کہا جمعہ کے بعد سینیٹ اجلاس میں بل پیش کیا جائے گا اور اسی روز ہی منظور کر لیا جائے گا۔

