
بغداد/واشنگٹن/تہران(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی اعلیٰ تربیت یافتہ ’قدس فورس‘ کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی سمیت8افراد ہلاک ہوگئے۔ سلیمانی کو مشرق وسطیٰ کی ایرانی پالیسی کا معمار خیال کیا جاتا تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے اور جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یہ حملہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوائی اڈے کے قریب جمعہ کی صبح کیا گیاجس میں جنرل سلیمانی کے اعلیٰ مشیر اور عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے ہیںتاہم امریکی عہدیدار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ابومہدی المہندس بنیادی ہدف نہیں تھے۔ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بغداد میں ایران سے تعلق رکھنے والے 2 اہداف پر حملہ کیا گیا۔ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاز کے گروہی اتحاد، عراقی ملیشیا ‘پاپولر موبلائزیشن فورس‘ (پی ایم ایف) نے بتایا ہے کہ حملے میں اس کے 5اراکین اور 2 ‘مہمان‘ ہلا ک ہوئے، جن میں ملیشیا کے پروٹوکول افسر اور رابطہ عامہ کے سربراہ محمد رضا الجبیری بھی شامل ہیں۔ پی ایم ایف کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا کہ ’امریکی اور اسرائیلی دشمن مجاہدین ابو مہدی المہندس اور قاسم سلیمانی کو مارنے کے ذمے دار ہیں۔عراقی حکام کے مطابق بغداد ائرپورٹ پرفضاء سے داغے گئے 3 راکٹ کارگوہال کے قریب گرے، حملے سے 2 کاروں کوآگ لگی،حملے میں 3عراقی شہری بھی مارے گئے۔عرب ٹی وی کے مطابق راکٹوں سے اہم مہمانوں کوائرپورٹ لانے والی گاڑیاں تباہ ہوئیں، راکٹ حملے سے قبل سائرن بجے، فضا میں ہیلی کاپٹرز اڑتے دیکھے گئے۔پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ ’قاسم سلیمانی عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ سازی میں متحرک تھے‘ انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ’حملوں‘ کی منظوری بھی دی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے فیصلہ کن کارروائی کی تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ لکھے بغیر امریکی جھنڈے کی تصویر پوسٹ کی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کا ممکنہ ردِ عمل جانتے ہیں اور اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں اور اہلکاروں میں اضافہ کرنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔علاوہ ازیں مقامی ملیشیا کے کمانڈر ابو منتطہر الحسینی نے بتایا ہے کہ ’جنرل سلیمانی اور ابو مہدی المہندس ایک گاڑی میں سوار تھے جوائرپورٹ سے باہر جانے والی سڑک پر گامزن تھی کہ جب ایک امریکی ہیلی کاپٹر سے فائر کیے گئے 2 گائیڈڈ میزائل نے یکے بعد دیگرے اسے نشانہ بنایا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری گاڑی میں پی ایم ایف کے محافظ سوار تھے اور اسے بھی راکٹ نے نشانہ بنایا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’امریکی مجرمان کو قافلے کی حرکات و سکنات کے بارے میں مکمل معلومات تھیں‘۔دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کو کئی سال پہلے ہی قتل کردینا چاہیے تھا۔ٹرمپپ نے ٹوئٹ میں کہا کہ قاسم سلیمانی بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہا تھا لیکن وہ پکڑا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی جنگ نہیں جیتی لیکن کبھی بھی مذاکرات سے محروم نہیں ہوا۔علاوہ ازیں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ جنرل سلیمانی نے امریکیوں کو بڑے پیمانے پر مارنے کی تیاری کرلی تھی اور ہم جانتے ہیں کہ یہ (خطرہ) قریب آ گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تناؤ میں کمی کا پابند ہے لیکن واشنگٹن اپنا دفاع کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے خطے میں اپنے اثاثوں کو مضبوط کیا اور سائبراٹیک سمیت کسی بھی ممکنہ انتقامی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ادھر جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر امریکی رہنماؤں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کو یکطرفہ اور احمقانہ قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ سخت انتقام ان مجرموں کا منتظر ہے جنہوں نے (سلیمانی) اور دیگر شہیدوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں ۔ایرانی سپریم لیڈر نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے پیچھے چھپے مجرموں سے سخت انتقام لیں گے جب کہ مزاحمتی تحریک مزید طاقت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے اپنے ردعمل میں امریکاکو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔انہوںنے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ امریکا اپنی بدمعاش مہم جوئی کے نتائج بھگتے گا۔ خطے میں سنگین صورتحال کے سبب ایران میں ٹاپ سیکورٹی باڈی کا فوری اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
بغداد: امریکی راکٹ حملے کے بعد ایرانی جنرل کی گاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے‘ اوپرقاسم سلیمانی کی فائل فوٹو
