تہران/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)قدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرات بڑھ گئے ،دونوں ممالک نے ایک دوسرے پربڑے حملوں کی دھمکیاں دے دیں۔پاسداران انقلاب کے کمانڈر غلام علی ابو حمزہ کا کہنا ہے کہ ایران جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا حق رکھتا ہے ،خطے میں 35 اہم امریکی اہداف ہمارے نشانے پر ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس موجود بیلسٹک میزائل شہاب 2 ہزار کلو میٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے اور امریکا کا دل تل ابیب بھی ہمارے نشانے پر ہے۔علاوہ ازیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر حسین دہقان نے کہا ہے کہ امریکی حملے کا ردعمل بھی فوجی ہوگا اور امریکی تنصیباب نشانہ بنیں گی۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا اتھا کہ جنگ کا آغاز امریکا نے کیا ، اس لیے وہ ردعمل کے لیے تیار رہے۔ حسین دہقان نے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ امریکا کو اسی شدت سے جواب دیا جائے۔ان کے بقول ٹرمپ کو عالمی قوانین کا پتا ہے نہ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کوئی فکر، دراصل امریکی صدر ایک جوا باز اور گینسگٹر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نہ سیاستدان ہے اور نہ ہی اس کا دماغی توازن ٹھیک ہے، اگر ٹرمپ نے ثقافتی مراکز کو نشانہ بنایا تو اس کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ ہوگا،اگر ٹرمپ نے وہی کیا جو وہ کہہ رہے ہیں تو کوئی امریکی فوجی اور نہ ہی فوجی تنصیبات محفوظ رہیں گے۔ادھر ایران کے آرمی چیف نے ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں ایران کے ساتھ لڑنے کی جرات نہیں ہے۔دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بڑے حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے کسی کارروائی کے ردعمل میں 52 مقامات پر حملے کیے جائیں گے۔امریکی صدر نے ٹویٹس میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ عراق میں امریکی ٹھکانوں پرحملوں کاسخت ترین جواب دیا جائے گا،اگر ایران نے کسی بھی امریکی شہری یا تنصیب کو نشانہ بنایا تو امریکا بہت تیزی اور شدت سے ایسی 52 تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرے گا جو ایران اور اس کی ثقافت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھاکہ یہ 52 اہداف پہلے ہی نشانے پر لیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی برس سے ایران ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، امریکی صدر نے جنرل سلیمانی کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا اور وہ دیگر کئی مقامات پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم آپ پر اتنا سخت حملہ کریں گے جو اس سے قبل نہیں کیا گیا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ امریکا نے فوجی ساز و سامان پر 2 کھرب ڈالر خرچ کیے ہیں اور ہم سب سے بڑے اور دنیا میں سب سے بہترین ہیں۔امریکی صدرنے مزید کہا کہ اگر ایران امریکی بیس یا کسی امریکی پر حملہ کرتا ہے تو جواب میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نیا خوبصورت ہتھیار ان تک بھیجیں گے۔
امریکا ایران جنگ کا خطرہ بڑھ گیا‘ بڑے حملوں کی دھمکیاں
القمر
