نئی دہلی (اے پی پی) دفعہ 370 کے خاتمے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرے اور لاک ڈاؤن کے خلاف بطور احتجاج سرکاری نوکری چھوڑنے والے بھارت کے سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کو آگرہ پولیس نے علی گڑھ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا جہاں ان کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں متنازع قانون شہریت اور قومی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن نے گوپی ناتھن کو سی اے اے، این پی آر اور این آر سی سے متعلق عوامی مباحثے میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے مدعو کیا تھا۔ گوپی ناتھن نے ہفتے کی سہ پہر ٹویٹ کیا کہ انہیں آگرہ کے قریب گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کبھی اشتعال انگیز تقریر نہیں کی، مجھے غیر قانونی طور پر کیوں گرفتار کیا گیا۔ گوپی ناتھن نے کہا کہ پولیس اہلکار مجھے تھانے نہیں لے گئے اور میں نے انہیں بتایا کہ یہ اغوا ہے۔ وہ مجھے پہلے ایک ڈھابے اور پھر ڈاک بنگلے پر لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سوال پوچھنے سے خوفزدہ ہے اور وہ کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ سابق آئی اے ایس افسر نے کہا کہ حکومت اختلاف رائے سے ڈرتی ہے اور تعلیم یافتہ افراد کے کسی بھی طرح کے اختلاف کو ’’شہری نکسل ازم‘‘ قراردے رہی ہے۔ آگرہ انتظامیہ کے مطابق گوپی ناتھن کو آگرہ گوالیار شاہراہ پر سائیاں ٹول پلازہ سے گرفتار کیا گیا اور انہیں کھیرا گڑھ میں واقع ریسٹ ہاؤس لے جایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- فارم-6 پر الیکشن کمیشن کے متضاد دعوؤں کی جانچ ہونی چاہیے: ادت راج
- ’حکومت کو چاہئے شمشان جیسا سکون‘، شیوسینا-یو بی ٹی نے ’پیس بانڈ‘ پر اٹھائے سوال
- سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت
- ووٹر لسٹ کی غلطی پر اقلیت کے حوالہ والی طنزیہ پوسٹ کا معاملہ، یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی
- عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار