English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بدین: یوم تعلیم سندھ کے موقع پر کاپی کلچر ، جعلی مارک شیٹ کیخلاف احتجاج

القمر

بدین/حیدرآباد (رپورٹ:۔ محمد علی بلیدی) 8 جنوری یوم تعلیم سندھ کے موقع پر کاپی رشوت سفارش کلچر اور تعلیم دشمن مافیا کے علاوہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں سالانہ کروڑوں روپے کی کرپشن جعلسازی سے اضافی نمبروں سے مارک شیٹ جاری کرنے کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق سندھ میں تعلیمی نظام کی تباہی کاپی سفارش اور رشوت کلچر کے علاوہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں تعلیم دشمن مافیا سے ملی بگت کر کے سالانہ کروڑوں روپے وصول کر کے غیرقانونی طریقہ اور جعلسازی سے اضافی نمبرز دے کر سیکڑوںبچوں کو اے ون گریڈ اور ٹاپ ٹن کی پوزیشن دینے اور مارک شیٹ جاری کرنے کے خلاف سندھ بھر کی علمی ادبی سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سندھ بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔اس موقع پر مرکزی ریلی اور مظاہرہ حیدرآباد میں کیا جائے گا حیدرآباد تعلیمی بورڈ اور بدین کے نجی تعلیمی ادارے کی ملی بگھت سے سیکڑوں بچوں کو بھاری رشوت لے کر اے ون گریڈ دینے کے خلاف بھی بدین کی علمی ادبی سماجی شخصیات اور تنظیموں کے علاوہ جعلسازی سے متاثرہ بچے بھی بدین میں احتجاجی مظاہرے کے علاوہ حیدرآباد میں نکالی جانے والی ریلی اور مظاہرے میں شرکت کریں گے۔واضح رہے کہ تعلیمی بورڈ حیدرآباد اور مختلف تعلیمی اداروں کی ملی بگھت سے ہونے والی سالانہ کروڑوں روپے کی کرپشن کے خلاف چیف سیکرٹری سندھ کے نوٹس ہدایت اور چیئرمین اینٹی کرپشن نے دو ماہ قبل پندرہ روز میں انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حکم کے باوجود تاحال کوئی عملدرآمد اور پیشرفت نہ ہو سکی جبکہ تعلیمی بورڈ اور کالج مافیا انکوائری رکوانے کے لیے متحرک اور سرگرم ہو گے ہیں اس سلسلہ میں حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے افسران نے جعلسازی میں ملوث تعلیمی اداروں سے ایک بار پھر کسی بھی متوقع کارروائی سے بچنے کے لیے لاکھوں روپے اضافی وصول کیے ہیںذرائع کے مطابق سندھ کے تعلیمی بورڈ حیدرآباد اور بدین ٹنڈوالہیار سمیت دیگر اضلاع کے مختلف نجی اسکولز اور کالیجز کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے طلبا اور طالبات سے فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ائر کے امتحانات میں اضافی نمبر دے کر اے ون گریڈ کی جعلی اور بوکس مارک شیٹ جاری کرنے کی مد میں سالانہ پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کے انکشافات اور متاثرہ طلبا اور طالبات کے احتجاج شکایات اور کرپشن کی نشاندہی کے بعد دو ماہ قبل چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے چیئرمین انکوائریز اینڈ انٹی کرپشن سندھ کو تمام بدعنوانیوں بے قائد گیوں جعلسازی اور کرپشن کی پندرہ روز میں انکوائری مکمل کر کہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے علاوہ ملوث نجی اسکول اور کالجز کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا چیف سیکرٹری سندھ کے حکم پر چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ جو اس وقت خود قائم مقام چیف سیکڑیری سندھ بھی ہیں نے ڈپٹی ڈاریکٹر انٹی کرپشن حیدرآباد کو ایک موسٹ ارجینٹ لیٹر کے ذریعے ہدایت دی تھی کہ پندرہ روز کے اندر تمام بے قائدگیوں اور کرپشن کی انکوائری مکمل کر کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر کہ رپورٹ دی جائے جس کے باوجود محکمہ اینٹی کرپشن حیدرآباد کی جانب سے تال حال کوئی کارروائی اور پیش رفت نہیں ہو سکی جبکہ دوسری جانب کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث تعلیمی بورڈ حیدرآباد میں موجود مافیا انکوئری رکوانے اور رپورٹ اپنے حق میں بنوانے کے لیے متحرک اور سرگرم ہو گئی ہے اس سلسلہ میں مختلف زرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تعلیمی بورڈ میں موجود مافیا اور جعلسازی کرپشن اور بے قائدگیوں میں ملوث بدین ٹنڈوالہیار حیدراباد ٹھٹھ سجاول اور ٹنڈومحمد خان میں واقع مختلف نجی اسکول اور کالیجز کے مالکان اور انتظامیہ نے جعلسازی فراڈ اور کرپشن کے ثبوت اور شواہد ختم کرنے کے لیے ریکارڈ غائب اور ضائع کرنے کے علاوہ انکوئری رکوانے اور ممکنہ عدالتی اخراجات کے لیے فوری طور پر ایک کروڑ روپے جمع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے. واضع رہے کہ تعلیم دشمن مافیا نے ذہین بچوں کا روشن مستقل تباہ کر کہ غریب بچوں کا سندھ کے میڈیکل یونی ورسٹیز اور کالیجز میں داخلہ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے میرٹ لسٹ میں نام کے اندراج کو یقینی بنانے کے لیے سنگین بے قائدگیاں اور بدعنوانیاں کرتے ہوئے میڈیکل داخلہ فارم کے ساتھ بوکس اور جعلی مارک شیٹ جمع کروائی اس کے علاوہ بے قائدگیوں اور بدعنوانیوں کا شکار بچوں ان کے والدین اور سول سوسائٹی بدین کی جانب سے میرٹ داخلہ لیسٹ اور جاری نتائیج کے خلاف بھرپور احتجاج میں شرکت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تعلیمی بورڈ حیدرآباد اور داخلہ انٹری ٹیسٹ کے نتائیج میں بھاری رشوت کی وصولی ہیراپیری اور بے قائدگیوں کے بعد میڈیکل کے داخلہ میرٹ لسٹ میں بھی سنگین بے قائدگیاں اور بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں جس کے مطابق انٹر کے امتحانات میں اضافی نمبر اور اے ون گریٹ کے لیے طلبا اور طالبات اور ان کے والدین کی ایک بڑی تعداد نے اسکول انتظامیہ اور تعلیمی بورڈ کے افسران کے ایجنٹس کے زرائع دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے دے کر دوسری بار نتائیج تبدیل کرا کے مارک شیٹ جاری کروائیں ان غیرقانونی تعلیم دشمن سرگرمیوں میں تعلیمی بورڈ حیدرآباد اور علاوہ چند نجی اسکول انتظامیہ کے کرندے بھی شامل رہے ان تعلیم دشمن سرگرمیوں میں سب سے نمایاں بدین کے ایک نجی اسکول کے مالک اور انتظامیہ رہی مزکورہ نجی اسکول کی ایک کلاس کے 80 بچوں نے اے ون گریڈ جبکہ سینکڑوں بچے اے گریڈ میں پاس ہوئے جبکہ دیگر سرکاری اور نجی اسکول کے ایک فیصد بچے بھی ان نمایاں نمبروں میں پاس نہیں ہو سکے بدین کے مزکرہ نجی اسکول کے تمام اے ون گریڈحاصل کرنے والے بچوں کے نمبر حیران کن طور پر 903 سے 916 تک رہے جبکہ سائنس کے مضامین میں بھی اکثر بچوں کے نمبر سو میں سے 93 سے 95 تک رہے بدین کے مزکورہ نجی اسکول کے درجنوں ایسے طلبا اور طالبات جن نے تعلیمی بورڈ کے جاری گزٹیڈ نتائیج میں جو نمبر اور پوزیشن حاصل کی جبکہ میڈیکل کے داخلہ فارم کے ساتھ جو مارک شیٹ جمع کرائی اس میں اضافی نمبروں کے ساتھ نمایاں فرق ہے جس کی نشاندہی لمس یونی ورسٹی انتظامیہ کو کروائے جانے کے باوجود مبینہ طور پر لمس یونی ورسٹی انتظامیہ نے بھی نشاندہی کو نظرانداز کرتے ہوئے بوکس اور جعلی مار ک شیٹ جمع کرانے والے بچوں کے نام بھی میرٹ سلیکشن لسٹ میں ڈال کر داخلہ دیا جا رہا ہے کرپشن بے قائدگیوں بدعنوانیوں فراڈ اور جعلسازی کا اندازا اس چیز سے لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیمی بورڈ سے اے ون گریڈ سے پاس ہونے والے 80 فیصد سے زائد طلبا اور طالبات مختلف میڈیکل انجنرنگ اور دیگر یونی ورسٹیز میں داخلہ کے لیے لیے جانے والے انٹری ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے.بدین کی سول سوسائٹی کے نمائندوں اور جعلسازی کا شکار بچوں کے والدین کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر بدین ڈاکٹر حفیظ احمد سیال سے ملاقات کر کہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ اور مقامی تعلیمی ادارے کی ملی بگھت سے کی گئی تعلیم دشمنی سے آگاہ کیا اس موقع پر ڈی سی بدین نے ڈاریکٹر اینٹی کرپشن اینڈ انکوائیری سے فون پر رابطہ کر کہ بدین کے شہریوں اور جعلسازی کا شکار بچوں کی شکایات اور انکوائری کی سست روی کے خدشات سے گاہ کرتے ہوئے فوری طور پر انکوائیری مکمل کر کہ ملوث عناصری کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کا کہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے