English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت کا آٹا چکیوں کے گندم کوٹے میں عدم اضافہ قابل مذمت ہے ، آٹا چکی اونر

القمر

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)آٹاچکی اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد حفیظ خانزادہ،سینئر نائب صدر حاجی محمد میمن،جنرل سیکرٹری محمدہارون آرائیں،جوائنٹ سیکرٹری محمد فاروق قمر اور اطلاعات سیکرٹری محمد فاروق نورانی نے ایک مشترکہ بیان میں محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے جنوری2020 ء آٹا چکیوں کے گندم کوٹہ میں اضافہ نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کو حیدرآباد کی لاکھوں عوام کے ساتھ زیادتی اور ظلم کے مترادف قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ محکمہ خوراک سندھ کے افسران گزشتہ تین دہاہیوں سے زمینی حقائق کے برخلاف آٹا چکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔جس کا حکومتی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ خوراک سندھ کے ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ حیدرآباد کی آٹا چکیاں رولر فلور ملز سے زیادہ سرکاری گندم حاصل کرتی رہی ہیں۔مگر اس حقیقت کو بھی محکمہ خوراک سندھ کے افسران تسلیم کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن گزشتہ 8 ماہ سے سندھ بالخصوص حیدرآباد میں گندم۔آٹا کے نرخوں کے بحران کی جو نشاندہی کرتی آرہی ہے وقت کے ساتھ حرف بہ حرف درست ثابت ہوتی رہی ہے جس کے حل کے لیے کسی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی سندھ حکومت نے اس جانب کوئی توجہ دی بلکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو گندم کے نرخوں میں من مانا اضافہ کرکے سندھ کی عوام کی جیبوں پر دن دھاڑے اربوں روپے ڈاکا ڈالنے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی 90 فیصد سے زائد عوام کو آٹا فراہم کرنے والی آٹا چکیوں کو 5 فیصد سے بھی کم گندم کوٹہ اس کے برعکس 10 سے 11 رولر فلور ملز کا سوجی،میدہ،فائن پہلے سے نکلا ہوا آٹا جسے 5 فیصد عوام بھی استعمال نہیں کرتے نوازشات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 90 فیصد سے بھی زائد گندم کوٹہ فراہم کیا جانا کس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ماہ نومبر میں آٹا چکیوں کو فی پتھر یومیہ 133 کلو گندم اور دسمبر 2019 ء میں 140 کلو سرکاری گندم کوٹہ اور رولر فلور ملز کو روزانہ کی بنیاد پر 25 ہزار کلو سے زائد گندم کوٹہ کی فراہمی کی گئی۔محکمہ خوراک سندھ کے افسران کی نوازشات کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوابلکہ15 سے 31 دسمبر 2019 ء رولر فلور ملز کا گندم کوٹہ ڈبل کے قریب کردیا گیا اور آٹا چکیوں کے گندم کوٹہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک سندھ کے افسران کی پالیسی کی وجہ سے جہاں حیدرآباد سمیت سندھ کے عوام معیاری اورغذائیت سے بھرپور آٹا استعمال کرنے سے قاصر ہیں وہاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آٹا چکیوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔جس کا اندازہ آٹا چکیوں کے موجودہ انتہائی ناکافی گندم کوٹہ سے بھی باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر محکمہ خوراک سندھ گندم کی تقسیم کو درست کردے تو حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں گندم اور آٹا کے نرخوں کے موجودہ بحران پر کافی حد تک قابو پایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے