ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ نے کہا ہے کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں شادی ہالز رات 11بجے بند ہوں گے، شادی سمیت دیگر تقریبات 11 بجے تک ختم نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے، شادی کی تقریبات میں آتش بازی اور فائرنگ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وہ شہباز ہال میں حیدر آباد ڈویژن کے شادی ہالز کے اوقات مقرر کرنے سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد عدیل حسین چانڈیو اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔کمشنر محمد عباس بلوچ نے کہا کہ عوام کے سکون کو متاثر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے اور اس ضمن میں ڈویژنل انتظامیہ ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جسے ڈویژن کے ایس ایس پیز اپنے اپنے متعلقہ اضلاع میں شادی ہال مالکان کو فراہم کریں گے، ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد نعیم احمد شیخ نے کہا کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں شادی ہالز کو رات 11 بجے بند کرنے کیلیے سندھ پولیس کی جانب سے بھر پور تعاون کیا جائے گا کیونکہ شادی کی تقریبات میں تاخیرکی وجہ سے ٹریفک جام اور دیگر مختلف مسائل جنم لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آئے ہوئے مہمانوں کو رات 12 بجے کے بعد کھانا کھلایا جائے جو کہ انسانی صحت کے لیے بھی مضر ہوتا ہے، شادی کی تقریبات میں آتش بازی اور فائرنگ کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، کمشنر کی ہدایت کے بعد ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالٰہیار رشید احمد زرداری نے کہا کہ ضلع کے تمام شادی ہالز کو مقررہ وقت پر بند کرنے کیلیے تمام شادی ہالز مالکان اس ضمن میں اپنا بھر پور تعاون کریں۔انہوں نے شادی ہال مالکان پر زور دیا کہ وہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے شادی ہال کے ساتھ پارکنگ کا بھی انتظام کریں، موجود شادی ہالز کے مالکان نے یقین دلایا کہ ٹنڈوالہیار کے تمام شادی ہالز رات 11 بجے بند کردیے جائیں گے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ گلیوں اور سڑکوں پر منعقد ہونے والی تقریبات کو بھی رات 11 بجے تک بند کرنے کو یقینی بنایا جائے، بڑے شادی ہالز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
