English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی حکومت کے خلاف 25 کروڑ مزدوروں کی ہڑتال

پٹنہ: بھارتی ریاستوں بہار ، مغربی بنگال، کرناٹک اور دیگر شہروں میں مودی حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف مختلف یونینوں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کے دوران شرکا نعرے بازی کررہے ہیں‘ بسیں اڈوں پر کھڑی ہیں، بازار سنسان اور مظاہرین ریلوے ٹریک پر دھرنا دیے ہوئے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کی ناکام اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ’’بھارت بند 2020ء‘‘ کے عنوان سے ملک گیر ہڑتال کی گئی، جس کی وجہ سے گزشتہ روز پورے بھارت میں کاروبار اور معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کئی ریاستوں سے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ مغربی بنگال اور کرناٹک میں ہڑتال کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے۔ کئی مقامات پر ریلوے ٹریک جام کردیا گیا جس کی وجہ سے درجنوں ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ اُدھر کرناٹک میں ہڑتال کے دوران بسوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ بھارتی مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی نریندر مودی حکومت کی عوام اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف کی گئی ہے۔ ہڑتال کے منتظمین کا مطالبہ ہے کہ غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 21 ہزار روپے کی جائے۔ اس کے علاوہ تنظیموں کی جانب سے ریلوے، پٹرولیم، ڈیفنس، انشورنس اور فضائی شعبوں میں نج کاری کی مخالفت کی گئی، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت لیبر کوڈ کے نام پر لیبر قوانین میں تبدیلی کرکے مزدوروں کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مودی ۔ شاہ حکومت‘‘ کی عوام مخالف اور مزدور مخالف پالیسیو ں نے بھیانک بے روزگاری پیدا کردی ہے۔ مودی اپنے سرمایہ دار دوستوں کی مدد کرنے کے لیے پبلک سیکٹر کے اداروں کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں اور آج اس کے خلاف 25 کروڑ لوگوں نے ’’بھارت بند 2020ء‘‘ ہڑتال کی ہے ۔ میں ان سب کو سلام کرتا ہوں۔دریں اثنا ہڑتال کی اپیل کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ مزدوروں اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے مودی حکومت سے ایک عرصے سے اپیل کر رہی ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، جس کی وجہ سے انہیں ملک گیر ہڑتال کا قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ کنفیڈریشن آف انڈین ٹریڈ یونینز کے رہنما انوراگ سکسینا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے مطابق مزدروں کی تنخواہ 21 ہزار روپے ماہانہ ہونی چاہیے اور ریٹائر ہونے والے مزدوروں کو کم از کم 10 ہزار روپے پنشن ملنی چاہیے۔ مستقل کاموں کے لیے کنٹریکٹ سسٹم بند ہونا چاہیے ، جس کا ذکر پہلے سے ہی کنٹریکٹ لیبر قانون میں موجود ہے۔ ایک اوررہنما دیباش چوبے کا کہنا تھا کہ ہڑتال میں عام لوگ بھی شامل ہیں کیوں کہ صرف مزدور ہی نہیں کسان بھی مودی حکومت سے ناراض ہیں۔ آپ دیکھیں کہ ملک میں کسانوں کی خودکشی کتنی بڑھ گئی ہے۔کھاد سے لے کر ڈیزل تک کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ مرکزی حکومت منافع والی سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ، ہر سیکٹر میں بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے ہڑتال پر جانے والے سرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز نوٹس جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آئین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو ملازمین کو ہڑتال پر جانے کا حق دیتی ہو۔کوئی بھی ملازم اگر ہڑتال میں شامل پایا گیا تو اسے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس کے خلاف تنخواہ کاٹ لینے سے لے کر ضابطہ کی کارروائی تک کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے