نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی بینک نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتصادی ترقی کے خواب چکنا چور کردیے۔ مودی نے بھارت کو 50 کھرب ڈالر کی حامل معیشت بنانے کا عزم کررکھا ہے، تاہم عالمی بینک نے2019-20 کے لیے بھارت کی متوقع اقتصاد ی ترقی کی شرح 6 فیصد سے کم کر کے 5فیصد کردی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ سے حواس باختہ مودی نے ماہرین اقتصادیات سے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں خامیوں کی نشاندہی کرنے کی اپیل کی۔ بھارت کے محکمہ شماریات نے چند روز قبل ہی رواں مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 5فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا۔ یہ شرح گزشتہ 11برس میں سب سے کم ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وزیرداخلہ امیت شا، منصوبہ بندی کے ادارے نیتی آیوگ کے ڈپٹی چیئرمین اور سی ای او اور دیگر وزرا بھی شامل تھے۔ تاہم وزیر خزانہ نرملا سیتارمن میٹنگ میں موجود نہیں تھیں۔ قبل ازیں 6جنوری کو بھی وزیر اعظم نے بھارت کے 11بڑے صنعت کاروں کے ساتھ بھی ملک کی اقتصادی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا،جن میں ایشیا کے امیر ترین بزنس مین مکیش امبانی اور رتن ٹاٹا شامل تھے۔ اپوزیشن جماعتیں اور ماہرین مودی کی اقتصادی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں، تاہم وہ انہیں خاطر میں نہیں لاتے۔ کانگریس پارٹی کے ایک رہنما کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ کانگریس کا انتخابی منشور پڑھ لیجیے آپ کو مشورے مل جائیں گے۔ کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی نے کہا کہ حکومت کو سب سے زیادہ توجہ معیشت پر دینی چاہیے تھی، لیکن معیشت میں اصلاح کے معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بھارتی معیشت اس وقت 42برس میں بدترین حالت سے گزر رہی ہے۔ مودی 2019ء میں جب دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے عوام کے سامنے چند ماہ میں معیشت کی ایک انتہائی خوش نما تصویر پیش کی تھی۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے حکومت کو بیرونی قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ برس ہی حکومت نے 22ارب ڈالر کا قرض لیا جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
