English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یہود کی اکثریت صہیونی قیادت کو بدترین اور کرپٹ سمجھتی ہے،سروے

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں کیے گئے رائے عامہ ایک تازہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت موجودہ صہیونی ریاست اور اس کی قیادت کو بدترین اور کرپٹ سمجھتی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ڈیموکریٹک اسرائیل انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ 58 فی صد یہودی آباد کاروں کاخیال ہے کہ ان کی قیادت بدترین کرپٹ ہے۔ سروے کے نتائج اخبار یروشلم پوسٹ میں شائع کیے گئے ہیں۔ 24 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قیادت کوکرپٹ سمجھتے ہیں جب کہ 16 فی صد کاکہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت کرپٹ نہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 55 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی عدالت عظمیٰ پر اعتبار کرتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی ریاست میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی انتظامیہ دریائے اُردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور مقبوضہ وادی گولان پراسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے کے بعد غرب اُردن پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کی جائے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ڈیوڈ فریڈ مین نے مزید کہا ہے کہ 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا اشارہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ اور اس جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کی طرف تھا۔ اس جنگ میں غرب ُاردن، وادی گولان، غزہ کی پٹی اور القدس پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کرلیا تھا۔اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ 3 مسائل حل طلب ہیں۔ ان میں القدس کی صورت حال ،وادی گولان اور غرب اُردن کے علاقے پراسرائیلی کنٹرول کا معاملہ فوری حل طلب ہے۔ فریڈمن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرچکے ہیں۔ اب غرب اُردن کی باری ہے اور اسے بھی اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے