پاک پی ڈبلیو ڈی کے افسران سیکڑوں کنٹریکٹرز کو ماموں بنانے میں کامیاب ہوگئے،اراکین اسمبلی کے فنڈز مبینہ طور پر کمیشن خوری کی نذر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
200 سے زائد کاموں کے ٹینڈرز ڈاکومنٹس آخری روز گزرجانے کے باوجود ٹھیکیداروں کو نہیں ملے، کراچی کے کنٹریکٹرز سخت تشویش میں مبتلا، تحقیقات کا مطالبہ
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)کراچی میں اراکین قومی اسمبلی کے ترقیاتی کام خطرے میں پڑگئے،پاک پی ڈبلوڈی کے افسران سینکڑوں کنٹریکٹرز کو ماموں بنانے میں کامیاب،دوسو سے زائد کاموں کے ٹینڈرز ڈاکومنٹس آخری روز گزر جانے کے باوجودٹھیکیداروں کو فراہم نہیں کئے جاسکے،اراکین قومی اسمبلی کے ترقیاتی منصوبے بھی مبینہ خریدوفروخت کی نذر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے،انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کیلئے جاری کئے جانے والے ترقیاتی فنڈز سے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دو سو سے زائد ترقیاتی اسکیموں کیلئے ٹینڈرز طلب کئے گئے تھے،جس کیلئے کراچی کے سینکڑوں کنٹریکٹرز کی جانب سے محکمے کو ٹینڈرز کیلئے درخواستیں دی گئیں تاہم افسران کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا جاتا رہا جبکہ گذشتہ روز10جنوری 2020 ء کو ٹینڈر کے اجراء کی آخری تاریخ گزر جانے تک ٹھیکیداروں کو ٹینڈر ایشو نہیں کئے گئے جبکہ 13تاریخ پیر کو ٹینڈر اوپن کئے جانے کی تاریخ مقرر ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اراکین اسمبلی کے فنڈز بھی مبینہ طور پر کمیشن خوری کی نذر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جس پر کراچی کے کنٹریکٹرز میں سخت تشویش پائی جارہی ہے،کنٹریکٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک پی ڈبلو ڈی کے افسران کو دس روز قبل سے ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز ڈاکومنٹس فراہم کرنے تھے لیکن ٹینڈر ڈاکومنٹس دینے کے بجائے افسران ٹھیکیداروں کے ساتھ مک مکا کی کوششوں میں مصروف رہے اور ٹینڈر اجراء کا آخری روز بھی گزر گیا لیکن ٹینڈر ڈاکومنٹس جاری نہ کرکے افسران ایک جانب کنٹریکٹرز کو ماموں بنانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دوسری طرف اراکین اسمبلی کے ترقیاتی کام بھی خطرے سے دوچار ہوکر رہ گئے ہیں،کنٹریکٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ پاک پی ڈبلو ڈی کے افسران مخصوص ٹھیکیداروں کو کام فروخت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اسی لئے ٹینڈر ڈاکومنٹس نہیں دیئے گئے،کنٹریکٹرز نے اراکین اسمبلی سمیت اعلی حکام سے اس سلسلے میں فوری نوٹس اور تحقیقاتی اداروں سے تمام ٹینڈرنگ کے عمل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

