English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا نئے جوہری معاہدے پر تیار ایران کا انکار

القمر

واشنگٹن ؍ لندن ؍ تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ برطانوی وزیر اعظم کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’’ٹرمپ معاہدے‘‘ سے تبدیل کر دیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ٹوئٹ میں بورس جانسن کی تجویز کی حمایت کی اور معاہدے کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا۔ دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی پیش کش مسترد کر دی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی وزیر اعظم صدر ٹرمپ کو ’’عظیم ڈیل میکر‘‘قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے منگل کے روز ٹرمپ کو کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے نیا معاہدہ کر لیں۔ اُدھر ایرانی صدر حسن روحانی نے ’’ٹرمپ ڈیل‘‘ کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن ہے، صدر ٹرمپ وعدوں کی پاسداری نہیں کرتے۔ گزشتہ روز ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ معطل کردہ معاہدے پر واپس آئے اور ایران پر عائد کی جانے والی عالمی پابندیاں اٹھائی جائیں۔ صدر روحانی نے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کہ لندن میں موجود وزیر اعظم کس طرح یہ سوچتے ہیں کہ جوہری معاہدے کو ایک طرف رکھ کر ٹرمپ منصوبے پر عمل کریں۔ اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک انتخابی ریلی میں ایران کے مقتول جنرل قاسم سلیمانی کو گالی دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی۔ ریاست وِسکونسن کے شہر مِلواکی میں خطاب کے دوران گالی بکتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیمانی کی وجہ سے نوجوان خواتین اور مرد اپنے بازوؤں اور ٹانگوں کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، اسے تو 20 برس قبل ہی ہلاک کر دیا جانا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف بہت جلد دوبارہ بین الاقوامی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی حمایت کے بعد اقوام متحدہ کی ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جانی چاہییں۔ دریں اثنا خلیجی ریاست قطر نے امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا ہے کہ قطر دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں کمی کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے