برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں حکومت اور باغی حفتر ملیشیا کے درمیان ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد جرمن چانسلر انجیلا مرکل اتوار کے روز برلن میں کانفرنس کی میزبانی کریں گی،جس میں لیبی فریقین کے ساتھ عالمی برادرای کے کئی اعلیٰ مندوب شریک ہوں گے۔ حکومتی ترجمان اسٹیفن زائبرٹ کا کہنا تھا کہ لیبیا کی خود مختاری اور مفاہمتی عمل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس اور خصوصی ایلچی غسان سلامی کی کوششوں سے برلن میں کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ ترجمان نے برلن کانفرنس میں باغی خلیفہ حفتر اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ فائز سراج کی شرکت کا امکان ظاہر کیا۔ دیگر شرکا میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، اٹلی، یورپی یونین کے نمایندے اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ سفارت کار بھی شامل ہوں گے۔ جرمن چانسلر نے افریقی یونین، عرب لیگ، الجزائر، مصر، متحدہ عرب امارات اور ترکی کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز خلیفہ حفتر کسی معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی ماسکو سے واپس آگئے تھے۔ خلیفہ حفتر ماضی میں لیبیا کی فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی فوج کئی ماہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملے کررہی ہے۔ ادھر اقوام متحد کی حمایت یافتہ لیبی حکومت کی قیادت فائز سراج کے ہاتھ میں ہے۔ جرمن حکومت اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامی کے منصوبے کی حمایت کرتی ہے تاکہ لیبیا میں سیاسی عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
لیبیا بحران پر برلن کانفرنس میں کئی ممالک شریک ہوں گے
القمر
