

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں روس کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود شمال مغربی شہر ادلب میں بدھ کے روز اسدی فوج کی بم باری میں 15 شہری جاں بحق اور 65 دیگر زخمی ہو گئے۔ برطانیہ میں قائم شامی رسد گاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق اسدی فوج نے ادلب شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع سبزی منڈی کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا۔ دریں اثنا خبر رساں اداروں کے مطابق ادلب ہی میں روسی جنگی طیاروں نے شامی مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ قصبوں پر نئے فضائی حملے کیے ہیں، عینی شاہدین کے مطابق روس اور ترکی کے مابین طے پانے والا فائر بندی کا معاہدہ دو روز پہلے ہی نافذ ہوا تھا، جس کی خلاف ورزی خود روس اور اسدی فوج نے کی ہے۔ دوسری جانب شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے وسط حمص کے مشرقی علاقے میں قائم ’فور‘ فوجی اڈے پر اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے میزائل داغے، تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ فوجی اڈے کو نقصان پہنچا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظررکھنے والی تنظیم ’شامی مبصر برائے انسانی حقوق‘ کا کہنا ہے کہ فوجی اڈے پر شامی اور ایرانی فورسز تعینات ہیں، اس کے علاوہ یہاں کچھ روسی عسکری مشیر بھی موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس سے قبل بھی اسرائیل اس فوجی اڈے پر میزائل حملے اور طیاروں سے بمباری کرچکا ہے۔ شام کے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کی گئی ایک خبرمیں بتایا گیا ہے کہ منگل کی شام ڈرون طیاروں کی ’فور‘ فوجی اڈے پربمباری کے دوران شامی ڈیفنس فورس نے جوابی کارروائی کی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگی طیاروں نے فوجی اڈے پر کئی میزائل گرائے، تاہم اس حملے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آسکی۔
