English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

PID کے ذریعے اشتہارات جاری کرنے کی پالیسی قابل مذمت ہے آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی

اس پالیسی کے نتیجے میں تمام وزارتوں اور خود مختار اداروں کی فیصلہ سازی کا عمل چند افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہوجائے گا، صدر اے پی این ایس حمید ہارون
وزارت اطلاعات کے افسران گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل ایسے منصوبے اور پالیسیاں وضع کررہے ہیں جن کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول اور محدود کیا جاسکے، سرمد علی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے وفاقی حکومت کی طرف سے اشتہارات کی مرکزیت پر مبنی پالیسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے اور اسے آزادی صحافت کو کچلنے کی نوکر شاہی کوشش قرار دیا ہے۔ اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری جنرل سرمد علی نے اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات کے افسران کی طرف سے گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل ایسے منصوبے اور پالیسیاں وضع کی جارہی ہیں جن کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول اور محدود کیا جاسکے، یہ منصوبے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، میڈیا کورٹس اور میڈیا پالیسی وغیرہ کی صورت میں پیش کیے گئے جن کو میڈیا کے تمام اداروں نے یکسر مسترد کر دیا تھا، اب وزیراعظم سیکریٹریٹ کی طرف سے دوبارہ مرکزیت پر مبنی پالیسی جاری کی گئی ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام اشتہارات پی آئی ڈی کے ذریعے جاری کیے جائیں۔ مزید براں اشتہار جاری کرنے والے تمام محکموں اور اداروں کو اپنی ضروریات کے مطابق میڈیا کا تعین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اے پی این ایس نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں تمام وزارتوں اور خودمختار اداروں کی فیصلہ سازی کا عمل چند افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے گا اور ان اداروں کی خودمختار سرگرمی تباہ ہو جائے گی۔ اس پالیسی سے محکموں کو اپنے طور پر منتخب کردہ میڈیا کے ذریعے ابلاغ کی آزادی کی نفی ہوگی اور درحقیقت تمام ریاستی اداروں کی آزاد فعالیت چند ہاتھوں میں منتقل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ پالیسی جنرل ایوب خان کے دور میں وضع کردہ اشتہارات کی مرکزیت کی پالیسی پر مبنی ہے جسے ہر آنے والی حکومت کے دور میں وزارت اطلاعات کی بیورو کریسی نے مختلف شکلوں میں نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اے پی این ایس نے واضح کیا ہے کہ میڈیا کے آزادی اظہار کو حکومت کے تابع کرنے کی ہر کوشش کو تمام میڈیا تنظیموں نے یکسر مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس پالیسی کو میڈیا کا بازو مروڑنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اے پی این ایس کے عہدیداروں نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا حکم جاری کریں تاکہ ملک میں ایک آزاد اور خودمختار میڈیا کی ترویج ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے