غیر قانونی سیل پوائنٹس اور دکانوں میں نوزل لگا کر ڈیزل بیچنے کا زمانہ پرانا ہوگیا
ماحولیات کی آلودگی میں اضافے سمیت قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان
کراچی (کرائم رپورٹر) ایرانی ڈیزل مافیا نے ملیر میں پنجے گاڑ لئے غیر قانونی سیل پوائنٹس اور دوکانوں میں نوزل لگا کر ایرانی ڈیزل بیچنے کا زمانہ ہوا پرانہ مافیا نے لائسنس والے پیٹرول پمپوں پر ایرانی ڈیزل بیچنا شروع کردیا مافیا نے مختلف پیٹرول پمپوں کو بھاری ٹھیکوں پر لے کر اس پر ایرانی اور چوری کا ڈیزل اور پیٹرول بیچنا شروع کردیا اسی طرح کا ایک پمپ پی ایس او کا پمپ کوالٹی پیٹرولیم سروس کے نام سے ملیر کے علاقے نیشنل ہائی وے پر گلشن حدید قائد اعظم پارک کے ساتھ قائم ہے تصویر میں واضح طور دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایرانی ڈیزل سوزوکی کے ذریعے ڈیزل ٹینک میں منتقل کیا جا رہا ہے اس پیٹرول پمپ پر نہ صرف ایرانی ڈیزل فروخت کیا جاتا ہے بلکہ آئیل ٹینکروں سے ڈیزل چوری سمیت کروڈ آئل بھی چوری کیا جاتا ہے چوری شدہ کروڈ آئل کو مختلف علاقوں میں قائم کپوں میں منتقل کرکے اس سے بھی ڈیزل بنایا جاتا ہے یہ پمپ نیشنل ہائی وے کے قوانین کی خلاف ورزی کرکے بنایا گیا ہے نیشنل ہائی وے قوانین کے مطابق روڈ سے 200 فٹ کی جگہ چھوڑ کر تعمیرات کی جاتی ہیں جبکہ یہ پمپ روڈ سے صرف 20 فٹ پر بنایا گیا ہے ذرائع کے مطابق یہ پیٹرول پمپ سندھ پولیس کے اے ایس آئی رفیق جتوئی نے ٹھیکے پر لیا ہوا ہے رفیق جتوئی ملیر کے سابقہ ایس ایس پی رائو انوار کے زمانے سے ایرانی ڈیزل کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی سرپرستی کرتا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ذرائع کے مطابق آئیل کمپنی کے فیلڈ افسران اور مقامی پولیس اور دوسروں کو اس غیرقانونی کام کے لئے ہفتہ وار بھتہ دیا جاتا ہے ایرانی ڈیزل مافیا کو ملیر کی بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل غیر معیاری ایرانی ڈیزل سے ایک طرف گاڑیوں کے انج تباہ ہورہے ہیںتو دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی میں اضافے سمیت قومی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

